Russia declares editor who delved into Navalny poisoning a wanted man

ماسکو: (اے یو ایس )روسی اخبار کے ایڈیٹر، جنھوں نے حزبِ اختلاف کے سیاست دان الیکسی نوالنی کو زہر دیے جانے سمیت کئی معاملات کی تفتیش میں حصہ لیا تھا، کہا ہے کہ برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت نے انہیں اشتہاری ملزم قرار دے دیا ہے۔’انسائڈر’ کے ایڈیٹر ان چیف، رومن دوبروٹوف نے رائٹرز کو بتایا کہ حکام نے الزام لگایا ہے کہ روس سے باہر جانے کے لیے انھوں نے غیر قانونی طور پر سرحد پار کی۔انھوں نے کہا کہ اس وقت وہ روس سے باہر ہیں، لیکن وہ اپنا محلِ وقوع ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ وہ یہ بھی نہیں بتائیں گے کہ وہ روس سے باہر کیسے نکلے۔

وزارت داخلہ نے اس معاملے پر ردعمل ظا ہر کرنے سے انکار کیا ہے۔ دوبروٹوف کہاں ہیں اس کے متعلق حکام نے کسی قسم کی تصدیق نہیں کی۔اس ماہ منعقد ہونے والے انتخابات سے قبل،حکومت پر تنقید کرنے والے اخباروں اور صحافیوں کو حکام کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباو¿ کا سامنا ہے۔ حکام انھیں سیاسی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں، جس میں کسی کو کوئی چھوٹ نہیں دی جاتی۔

بتایا جاتا ہے کہ ‘انسائڈر’ پر حکام اس لیے برہم ہیں چونکہ اخبار نے گزشتہ سال اگست میں نوالنی کو زہر دیے جانے کے معاملے پر سیکیورٹی کے متعلقہ اہل کاروں کی شناخت ظاہر کی تھی۔ کریملن نوالنی کی بیماری کی ذمے داری لینے سے انکار کرتا ہے۔’انسائڈر’ روس کے ان کئی اخباری اداروں میں سے ایک ہے جنھیں اس سال میڈیا کا ”غیر ملکی ایجنٹ” قرار دیا گیا ہے۔ اس اعلان کے بعد اخبار کو ملنے والے اشتہارات کی آمدنی متاثر ہو ئی، اور اس اقدام کے بعد ملک دشمنی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔روسی حکومت اس بات سے انکار کرتی ہے کہ سیاسی وجوہ کی بنا پر وہ اخباری اداروں کے خلاف قدم اٹھاتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی اقدام قانون کے عین مطابق ہوتا ہے، اور غیر ملکی ایجنٹ کے لیبل لگنے کے بعد بھی یہ ادارے روس میں اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔

دوبروٹوف نے ٹوئٹر پر بتایا کہ جمعرات کے دن پولیس نے ماسکو میں دوبروٹوف کے خاندان اور والدین کے دو اپارٹمنٹس کی تلاشی لی اور موبائل فون اور کمپیوٹر اپنی تحویل میں لے لیے۔ انسائڈر نے خبر دی ہے کہ پولیس اہل کاروں نے تفتیش کے لیے ان کی بیوی کو تحویل میں لے لیا ہے۔ان کی وکیل، یولیا کزنیٹسووا نے رائٹرز کو بتایا کہ دوبروٹوف کو 23 ستمبر کو اشتہاری ملزم قرار دیا گیا تھا۔دوبروٹوف نے بتایا ہے کہ جولائی میں پولیس نے ان کا پاسپورٹ اس وقت چھین لیا تھا، جب اہل کاروں نے ان کے گھر کی تلاشی لی اور ایک اور غیر متعلقہ معاملے میں ان پر بہتان تراشی کے الزام کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔