Taliban deploy suicide bombers at Tajikistan border

کابل: (اے یو ایس ) طالبان حکومت نے تاجکستان سے ملے سرحد پر خودکش دستوں کو تعینات کیا ہے۔ تا کہ ہمسایہ ملک سے کسی قسم کی اگر کارروائی ہو تو اس کو روک سکیں ۔ بدخشاں صوبے کے نائب گورنر ملا نثار احمدی نے کہا کہ لشکرے منصوری نے کہا کہ سابقہ حکومت کے فوجی افسروں کے خلاف یہ کارروائی کریں گے۔

یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ اشرف غنی حکومت میں کام کرنے والے بہت سے فوجی تاجکستان سرحد پر جمع ہوئے ہیں۔ انہیں سابق نائب صدر امراللہ صالح کی بھی پشت پناہی ہے۔ امرللہ صالح نے احمد مسعود کے ساتھ پنجشیر وادی میں طالبان کے خلاف مہم شروع کی لیکن چند دن کے تصادم کے بعد یہ دونوں رہنما پنجشیر سے فرار ہوگئے اور یہ اطلاع ملی ہے کہ انہوں نے تاجکستان میں پناہ لی ہے۔

تاجکستان حکومت دوسرے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ مل کر افغان حکومت پر دباﺅ ڈال ررہی ہے کہ وہ مختلف نسل اور مسلک کے نمائندوں کو اپنی حکومت میں شامل کرے۔ اس سلسلے میں ایک عوامی حکومت قائم کرسکیں گے لیکن ابھی تک طالبان نے ایسا نہیں کیا ہے۔

روس اور پاکستان نے بھی افغانستان کو کہا کہ انہیں ایک ملی جلی سرکار بنانا چاہئے۔ تا کہ اس حکومت کو تسلیم کرنے میں کوئی مشکل نہ ہولیکن ابھی تک طالبان کی طرف سے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا یا گیا ہے اس دوران تاجکستان کے وزیراعظم ام ملی رحمان نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے فون پر بات کی ۔ کل کچھ جنگجوﺅں نے جنکا تعلق داعش سے بتا یا جا رہا ہے ،دوطالبان کو ہلاک کردیا ۔ اس کے علاوہ دوسرے شہری بھی زخمی ہوئے۔ جو اس امر کی نشاندہی کررہا ہے کہ ابھی بہت سارے صوبوںمیں داعش اور دوسری دہشت گرد تنظےمیں سرگرم ہیں ۔