S&P Global Ratings keep their growth forecast for India

لگتا ہے کہ چین کے دن اچھے لد گئے اور اپ اسے اپنی اقتصادی صورت حال کومضبوط بنانے کے لئے سن جدوجہد کرنا پڑی۔ چین کی معاشی حالت کو تگڑا جھٹکا لگنے والا ہے ، اس کے پیچھے وجہ ہے 2019 کے آخر میں پھیلی عالمی وبا کورونا ۔ دنیا بھر کے ملک اب چین کے ساتھ کاروبار کرنے سے کترانے لگے ہیں اور تیزی سے چین کا متبادل تلاش کر رہے ہیں۔ا سٹینڈرڈ اینڈ پورزگلوبل جو پوری دنیا کی سب سے بڑی ریٹنگ کمپنی ہے، جو دنیا کے ممالک کو ان کے اقتصادی پیمانے ، کاروبار، جی ڈی پی ، تھوک قیمت انڈیکس ، پرائس کلیکشن سسٹم اور تمام معاشی معیاروں کی بنیاد پر اس خصوصی ملک کو ایک لسٹ میں رکھتی ہے۔ اگر اس ملک کا معاشی پیمانہ اچھا ہے تو ریٹنگ میں اونچی جگہ ملے گی نہیں تو پائیدان میں نچلی سطح پر گرادیا جائے گا۔

ایس اینڈ پی گلوبل کی ریٹنگ پر دنیا کے کئی ملکوں کے عالمی اور علاقائی کاروبار پراثر پڑتا ہے۔ ایس اینڈ پی گلوبل نے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں دنیا بھر کی معاشی ترقی کی بات کہی گئی ہے۔ اپنی رپورٹ میں ایس اینڈ پی نے دو ملکوں کی معاشی حالت پر زوردیا ہے، یہ ممالک ہندوستان اور چین ہیں ، چین کی ترقی کی شرح 7.7 کی رفتار سے آگے بڑھے گی، لیکن اس کے ساتھ ہی ایس اینڈ پی گلوبل نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر چین ایور گراڈے سے ہونے والے نقصان کو روک لیتا ہے یا اسے پورا چکا دیتا ہے تبھی چین کی ترقی شرح اس رفتار پر چلنے میں اہل ہوگی۔ایس اینڈ پی گلوبل نے چین کے سال 2021 میں جی ڈی پی میں اضافہ کے اندازوں میں 30 بنیادی پوائنٹس کی کٹوتی کی ہے، چین کے لئے ایجنسی نے پہلے 8فیصد شرح نمو کا تخمینہ لگایا تھا جسے بعد میں گھٹا کر 7.7 فیصد کر دیا گیا۔ چین کی سرکار اگر ایور گرانڈے کمپنی نے چین کی معیشت میں پیدا ہوئے بھونچال کو تھام لیتی ہے تبھی اسے 7.7 فیصد شرح نمو ملے گی۔ آگے ایس اینڈ پی گلوبل نے یہ بھی کہا کہ اگر چین کی سرکار ایورگر انڈے سے پیدا ہوئے معاشی بحران کو نہیں سنبھال پاتی تو اس کی معاشی ترقی شرح ایک دم نیچے آ جائے گی۔ اس کے ساتھ چین کی معیشت کا جو پچھلے 30 سالوں سے سنہرا دور چلا آ رہا ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا۔

چین کو اپنی معاشی ترقی کی شرح کو 7.7 فیصد پر بنائے رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ دہ ایور گرانڈے سے پیدا ہو یہ معاشی تنگی کو جلدی دور کرے۔ لیکن موجود و حالات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ چین اس سے ابھرپائے گا۔ ایور گرانڈے گھوٹالہ ایک بہت بڑا گھوٹالہ ہے یہ اپنے ساتھ ساتھ کئی دوسرے ملکوں کی معیشت کو دیوالیہ بنا سکتا ہے۔ ایس اینڈ پی گلوبل ایجنسی ریٹنگ نے کہا کہ چین کے اعلی اقتدار پر بیٹھے لوگوں نے چینی تکنیکی کمپنیوں کے لئے جو چین کی ٹیکنا لوجی سیکٹر کا بڑا حصہ ہے ، پر اپنے اصولوں کو سخت کر دیا ہے۔ ڈیلیوری رائیڈرز ،انٹرنیٹ گیمنگ کمپنیوں کے اصولوں پر لگام لگانے اور سختی بڑھانے سے چین کی معیشت کو نقصان ہورہا ہے۔ اس سے چین کا معاشی مستقبل بھی غیر یقینی کی طرف لگاتار بڑھتا جا رہا ہے۔ ایور گرانڈے سے پیدا ہوئے معاشی حالات پر ریٹنگ ایجنسی نے کہا کہ اس سے دوسرے ڈویلپرز ، سپلائی چین سے جڑے سیکٹر، بڑے اور منجھولے ٹھیکیدار ، بنک اور بڑے چھوٹے مالی اداروں پر برا اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ چین سرکار ایورگرانڈے گھوٹالے سے پیدا ہوئے حالات کو سنبھالنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے اور جلد ہی اس کے اثر عالمی طور پر دیکھنے کو ملیں گے۔

ریٹنگ ایجنسی نے کہا کہ ہمیں امید نہیں ہے کہ چین کی سرکاری ایور گرانڈے کو کسی طرح کا سیدھا تعاون دے دے گی۔ بھارت کے بارے میں بھی ایس اینڈ پی گلوبل نے ریٹنگ دی ہے ، حالانکہ ریٹنگ ایجنسی ہندوستان کے حوالے سے ہمیشہ منفی رخ اپناتی رہتی ہے اور اونچی ریٹنگ دینے سے بچتی رہی ہے لیکن اس بارایس اینڈ پی نے ہندوستان کی معاشی صورتحال کو بہتر بتایا ہے۔ ریٹنگ ایجنسی کے مطابق کورونا کی دوسری لہر کے بعد ہندوستانی معیشت میں زبردست ریکوری ہوئی ہے۔ بھارت کے لئے ایجنسی نے سال 2022 میں 9.5فیصد کی جی ڈی پی کا اندازہ رکھا ہے اور مستحکم بتایا ہے۔ ہندوستان کی تعریف کرتے ہوئے ایس اینڈ پی گلوبل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اپر یل – جون میں ہندوستان کی معیشت کورونا کی دوسری لہر کی وجہ سے سست پڑ گئی تھی لیکن جولائی- ستمبر کی سہ ماہی میں ہندوستانی معیشت نے ریکوری کی ہے۔ افراط زرامید سے امید زیادہ بنی ہوئی ہے۔