Bollywood is suffering from disease of drugs for the last 40 years

ممبئی: بالی وڈ میں ڈرگس کا روگ ( بیماری) کوئی نئی بات نہیں ہے ، تقریبا 40 سال پہلے بھی بالی وڈ انڈسٹری منشیات فروشوں کے نشانے پر تھی۔ انڈسٹری کے کئی نامور لوگ منشیات کے عادی ہو گئے اور چھوڑنے کے بعد وہ دوسروں کے لیے ایک مثال بن گئے۔ ڈرگس کی عادت چھوڑ چکی مشہور شخصیات نے آنے والی نسل کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ منشیات کس طرح انسان کو کھوکھلا کرتی ہیں ، لیکن نوجوانوں کی سوچ میں کئی جنریشن گیپ آچکے ہیں جو کہ فطری بھی ہیں۔ بالی وڈ فلم انڈسٹری کی نئی نسل بری طرح اس کے جال میں پھنس گئی ہے ، یہ انکشاف اس وقت ہوا جب فلمی اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی موت کی تحقیقات گزشتہ سال نشے کی اندھیری دنیا تک جا پہنچی تھی۔
سنجے دت
1982 میں بالی وڈ کے اس اداکار کو ڈرگس رکھنے کے الزام میں گرفتار بھی کیا گیا۔ بعد ازاں انہیں اپنے والد سنیل دت کے کہنے پر امریکہ کے نشہ چھڑاؤ مرکز میں بھیج دیا گیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق سنجے دت نے خود ایونٹ اینڈ انٹرٹینمنٹ مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے سالانہ کنونشن میں انکشاف کیا کہ اگر آپ نیشیلی دواو¿ں کے بارے میں سوچیں گے تو آپ اسے ضرور استعمال کریں گے۔ ایک بار جب ا سکی لت لگ جاتی ہے تو اسے چھوڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے تقریبا 12 سال تک ڈرگس لیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایسا کوئی ڈرگس نہیں ہے ، جس کا میں نے استعمال نہیں کیا ہو۔ انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ جب میرے والد مجھے نشہ چھڑانے کے لئے امریکہ لے گئے تو ڈاکٹر نے مجھے ادویات کی ایک فہرست دی اور میں نے اس فہرست میں موجود ہر دوا پر ٹک( نشان )لگایا۔ کیونکہ میں ان سب کو پہلے ہی لے چکا تھا۔ ڈاکٹر نے میرے والد سے کہا کہ آپ لوگ ہندوستان میں کس قسم کا کھانا کھاتے ہیں؟ انہوں نے جو ڈرگس لی ، ا ن کے حساب سے تو اب تک اسکو مرجانا چاہئے تھا۔
پرتیک ببر
آنجہانی اداکارہ سمیتا پاٹل اور راج ببر کے بیٹے پرتیک ببر نے سنجے دت کی طرح دنیا کو اپنی نشے کی لت کے بارے میں بتایا۔ اداکار نے اعتراف کیا کہ انہوںنے 13 سال کی عمر میں ڈرگس لینا شروع کردیا تھا۔ ان کی زندگی میں عورتیں آئیں اور گئیں ، لیکن ڈرگس کی لت اس کے ساتھ رہی۔ بعد میں نشہ نجات مرکز نے اس مسئلے سے نکلنے میں ان کی مدد کی۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈرگس کی وجہ سے میرا بچپن ہنگامہ خیز رہا۔ مسلسل اندرونی جھگڑوں کی وجہ سے میرے سر میں آوازیں گونجتی رہتی تھیں۔ میں اپنے آپ سے پوچھتا تھا کہ میں کہاں ہوں؟ صرف 13 سال کی عمر میں میں نے پہلی بار ڈرگس لیا اور پھر عادی ہو گیا۔ میرے لیے ڈرگس کے بغیر بستر سے نکلنا تقریباٍناممکن تھا۔ ہر صبح مجھے متلی محسوس ہوتی تھی۔ میرے جسم میں درد ہوتا تھا۔ کبھی مجھے گرمی محسوس ہوتی تھی اور کبھی سردی۔ جب میرے پاس کوئی پسندیدہ ڈرگس نہیں تھا ، میں کسی بھی ڈرگس کو اپنا بنا لیتا۔ حالانکہ یہ میرے لیے بہت نقصان دہ تھا۔
رنبیر کپور
رنبیر کپور نے شہرت کی جن بلندیوں کو چھوا ہم سب اس سے واقف ہیں۔ اس اداکار نے فلم بینوں سے لے کر ناظرین تک سب کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب حاصل کی ، لیکن ، کیا آپ جانتے ہیں کہ انہوں نے شراب اور ڈرگس کا بھی استعمال کیا ہے؟ میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رنبیر نے اعتراف کیا تھا کہ جب وہ فلمی اسکول میں تھے تو وہ اس وقت تمباکو کھاتے تھے۔ یہ بھی انکشاف کیا کہ میں نے ‘راک اسٹار’ کے دوران اس کا استعمال پھر سے۔ صرف اس بار استعمال اداکاری ٹول کے طورپر تھا۔
دھرمیندر
یملا پگلا دیوانہ 2 کی تشہیر کے دوران دھرمیندر نے اعتراف کیا کہ ان کا کیریئر ان کے پینے کی وجہ سے تباہ ہو گیا تھا ، لیکن اب 2011 میں انہوںنے اپنی بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر شراب نوشی چھوڑ دی۔ انہوں نے کہا کہ میں ان دنوں نہیں پیتا۔ میں نے اپنے شراب نوشی کی وجہ سے ماضی میں بطور اداکار اپنے آپ کو برباد کیا ہے۔ اب میں انسانیت پر یقین رکھتا ہوں اور فلم سازی کا کاروبار سیکھ چکا ہوں۔
فردین خان
فردین خان بالی وڈ میں کامیابی کی سیڑھی چڑھ رہے تھے جب انہیں منشیات کی لت پڑ گئی۔ انہیں 2001 میں ممبئی کے جوہو سے کوکین کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا اور اس کی وجہ سے انہیں ایک طویل قانونی جنگ لڑنی پڑی۔ انہوںنے میڈیا کو بتایا تھا کہ مزاج میں بدلاؤ لانے والا کوئی بھی مادہ چاہے وہ منشیات ہو یا شراب یا نسخے کی گولیاں ، اگر آپ ان تمام مہلک چیزوں کے عادی ہو جاتے ہیں ، تو آپ ان پر مکمل طور پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ آپ اس کے برے اثرات کو جان لیں۔ وہ آپ کو اندر سے کھوکلا کر چکی ہوتی ہے۔ اس لیے کسی بھی قسم کی نشہ آور چیز مہلک ہے۔ اب میرا واحد نشہ اپنے پریوار سے پیار ہی ہے۔ یہ میری زندگی کا حصہ ہے۔ براہ کرم اپنے آپ کو بیدار کریں ، نشہ اچھی چیز نہیں ہے۔
ہنی سنگھ
ڈرگ کے عادی ہونے کی وجہ سے ہنی سنگھ کا کیریئر اور شہرت کا گراف نیچے آگیا۔ ایسی خبریں ہم نے اور آپ نے بہت سنی ہیں۔ مگر تصویر ہنی سنگھ نے خود صاف کی۔ انہوں نے کہا ،یہ پہلی بار ہے جب میں اس بارے میں بات کر رہا ہوں۔ کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میرے پرستاروں کو معلوم ہو جائے کہ میرے ساتھ کیا ہوا۔ اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا ہے اور میں خود دنیا کو اس کے بارے میں بتانا چاہتا تھا۔گزشتہ 18 ماہ میری زندگی کا سب سے بدترین دورتھا۔ میں کسی سے بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ میں جانتا ہوں کہ ایسی افواہیں تھیں کہ میں نشے سے نجات کے مرکز میں تھا ، لیکن اس وقت میں نوئیڈا میں اپنے گھر میں تھا۔ سچائی یہ ہے کہ میں بائیپولرڈس آرڈر سے متاثر تھا ۔ ان 18 مہینوں میں ، میں نے چار ڈاکٹروں سے مشورہ کیا۔ مجھ پر کوئی دوا کام نہیں کر رہی تھی۔ میں بہت عجیب پوزیشن میں تھا۔ میں اب اپنے آپ کواور روکنا نہیں چاہتا تھا۔ مجھے اس بات کو ضروری تسلیم کرنا چاہیے کہ میں بائیپولر بیماری میں مبتلا تھا اورخوب شراب پیا کرتا تھا ، جس کی وجہ سے میری حالت خراب ہوگئی تھی۔
پوجا بھٹ
پوجا بھٹ کبھی شراب کی دیوانی ہوا کرتی تھیں، لیکن اب اس نے خود کو شراب سے مکمل طور پر دور کر لیا ہے۔ ان کے والد مہیش بھٹ نے انہیں اپنی زندگی کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا۔ اس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ 16 سال کی عمر میں اس نے شراب نوشی شروع کردی۔ 23 سال کی عمر میں انہوں نے پہلی بار سگریٹ نوشی کی ، لیکن انہوںنے کبھی کوکین کا استعمال نہیں کیا۔ پوجا نے بتایا کہ شراب پینے سے ہمیں سکون ملتا ہے ، یہ ہماری شام کو رنگین کرتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر آپ کی فلم ہٹ ہوتی ہے تو آپ شیمپین میں نہاتے ہیں۔ اگر یہ فلاپ ہوجاتی ہے تو ، صرف ایک مالٹ ہی آپ کے درد کو کم کرسکتا ہے اس سے پہلے کہ یہ مجھے قبر تک لے جاتی اسے چھوڑ دیا۔ شراب کی عادت کی وجہ سے میں نے خود کو کھو دیاتھا۔