No official celebration of World Teachers' Day in Afghanistan

کابل: بین الاقوامی یوم اساتذہ جو عام طور پر ہر سال افغانستان میں بڑے زور شور سے منایا جاتا ہے اس سال بہت پھیکا رہا کیونکہ اس موقع پر کسی سرکاری تقریب کا انعقاد نہیں کیا گیا ۔البتہ کچھ طلبا نے ضرور یہ دن منایا جبکہ چھٹی جماعت سے اوپر کی طالبات کو اسکول جانے کی اجازت نہیں ملی۔دریں اثنا متعدد خواتین اساتذہ نے کہا کہ وہ بہت پریشان اور مایوس ہیں کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے اور بڑی بڑی ڈگریاں لینے کے بعد وہ تدریسی خدمات انجام نہیں دے سکتیں۔

سعیدہ سادات نام کی ایک استانی نے کہا کہ مجھے بہت مایوسی ہوئی ہے کیونکہ جن خواتین نے بڑی مشقت کے ساتھ پڑھائی اور ماسٹر ڈگری حاصل کی وہ درس و تدریس کا کام انجام نہیں دے سکتیں۔ سعیدہ سادات سات سال سے زیادہ عرصہ تک استاد رہی ہے اور گریڈ ایک سے چھ تک پڑھاتی ہے۔اس نے کہا کہ میں مایوس ہوں کیونکہ پڑھنے والی طالبات اب گھر پر ہیں اور پڑھ نہیں سکتیں۔

کابل کے ایک پرائیویٹ ا سکول کی پرنسپل/منیجرلیلیٰ بشر خموش نے کہا کہ ہماری کئی طالبات کی مائیں استانیاں لیکن اب وہ گھر پر بیٹھی ہیں ۔ آج ہمارے طلبا یہاں آئے اور ہمیں ٹیچر ڈے پر مبارکباد دی ، لیکن وہ خود بہت مایوس اور نہایت ناخوش تھے۔ طالبہ سومیہ صبا شریفی نے کہا کہ یہ وہ عالمی یوم اساتذہ نہیں تھا جس کا میں نے خواب دیکھا تھا اور اسے منانے کے ،لیے میں نے بہت سے منصوبے بنا رکھے تھے۔ ملک میں تھوڑی دیر کے لیے اساتذہ کا دن منایا گیا ، لیکن اس سال کوئی سرکاری تقریب منعقد نہیں کی گئی۔

دریں اثنا متعدد اساتذہ نے کہا کہ وہ اس وقت نہایت غربت اور تنگدستی کی زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ انہیں تین ماہ سے زیادہ مدت سے تنخواہ نہیں ملی اور وہ کئی مسائل سے دوچار ہیں۔استاد سید رسول کریمی نے کہا کہ ہر استاد کا کھانا اور کپڑا تنخواہ ملنے سے ہی مل سکتا ہے۔ تاہم وزارت تعلیم نے ایک بیان میں اساتذہ کے دن کی مبارکباد دی اور کہا کہ ان کی وزارت ملک کے اساتذہ کے مسائل حل کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی ۔