Missing Afghan army colonel from Quetta could not be traced till date

اسلام آباد:(اے یو ایس ) افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد پاکستان پہنچنے اور پھر کوئٹہ سے لاپتہ ہونے والے افغان آرمی کے ایک کرنل کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں موجود افغان قونصل خانے نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ شہر کے مصروف ترین منان چوک سے افغان فوج کے ایک کرنل سردار محمد ہوتک کو ’نامعلوم مسلح افراد ساتھ لے گئے تھے اور وہ ہنوز لاپتہ ہیں۔‘بی بی سی کے رابطہ کرنے پر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ وہ معلومات اکٹھی کر کے ہی اس واقعے پر بیان دیں گے تاہم بعد میں انھوں نے بارہا رابطے کے باوجود جواب نہیں دیا جبکہ بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیا لانگو نے اس واقعے کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔کوئٹہ میں افغانستان کے قائم مقام قونصل جنرل عبدالخالق ایوبی کے مطابق انھیں پاکستانی حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ لاپتہ کرنل ’ان کے پاس نہیں ہیں۔‘

افغانستان کے صوبے زابل سے تعلق رکھنے والے افغان آرمی کے کرنل سردار محمد ہوتک دیگر سینکڑوں افغان شہریوں کی طرح افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے بعد بیرون ملک جانا چاہتے تھے۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ افغان آرمی کے یہ کرنل پاکستانی ویزے پر آئے تھے یا پھر غیر قانونی راستے سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔سردار محمد ہوتک کے ایک رشتہ دار کے مطابق وہ افغانستان کے صوبے زابل میں افغان آرمی سے منسلک تھے اور اب امریکہ جانا چاہتے تھے۔ کوئٹہ میں افغان قونصلیٹ کے حکام کے مطابق سردار محمد ہوتک نے اپنا نیا پاسپورٹ 21 ستمبر کو کوئٹہ میں واقع افغان قونصل خانے سے حاصل کیا تھا۔ واضح ہو کہ کابل پر طالبان کنٹرول کے بعد ہزاروں افغان شہریوں نے اپنا ملک چھوڑ کر دوسرے ممالک میں پناہ لی اور اب بھی ہزاروں افراد وہاں سے دوسرے ممالک میں پناہ لینے کی کوششوں میں ہیں۔ نصیب خان کے مطابق ’سردار محمد ہوتک اس سے پہلے بھی کوئٹہ میں افغان پناہ گزین کی حیثیت سے رہ چکے ہیں اور تب سے ان کے کوئٹہ شہر میں کئی دوست ہیں۔منان چوک کوئٹہ شہر کے مصروف ترین بازاروں میں سے ایک ہیں اور یہ چوک شہر کے دو پولیس تھانوں کے حدود میں آتا ہے، جس میں ایک سول لائن پولیس تھانہ اور دوسرا سٹی پولیس تھانہ ہیں۔

بی بی سی سے دونوں تھانوں میں پولیس حکام سے اس واقعے کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ ان کے پاس کسی نے بھی پولیس رپورٹ کے لیے درخواست نہیں دی ہے اور نہ ہی اس واقعے کے بارے میں ان کو کوئی علم ہے۔سردار ہوتک کے بھائی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ایف آئی آر اس لیے درج نہیں کروا سکے کیونکہ وہ خود پاکستان جا نہیں سکتے اور ان کے کہنے پر کوئی پاکستانی شہری ایف آئی آر درج کرنے کے لیے درخواست نہیں دے رہا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ ہو سکتا ہے ان کے بھائی کوئٹہ سے کہیں باہر دوسرے شہر یا دوسرے ملک چلے گئے ہوں؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ’بھائی کا فون نمبر، واٹس ایپ اور فیس بک 21 ستمبر سے بند ہے اور انھیں بھائی کے پاکستانی دوستوں نے بتایا ہے کہ سردار ہوتک اغوا ہوئے ہیں۔‘افغان آرمی کے لاپتہ کرنل کے بھائی کے مطابق کرنل سردار محمد ہوتک کے دو بچے (دس سالہ بیٹا اور سات سالہ بیٹی) پانچ سال قبل ایک بم حملے میں ہلاک ہوئے تھے اور اب گھر پر صرف ان کی اہلیہ موجود ہیں۔اگرچہ ابھی تک لاپتہ کرنل کے بارے میں پاکستانی حکام نے کچھ نہیں بتایا، لیکن اس سے پہلے گذشتہ ماہ کوئٹہ سے حکام نے پچاس کے قریب ایسے افغان خاندانوں کو واپس افغانستان بھیج دیا تھا، جو حال ہی میں چمن کے راستے کوئٹہ آئے تھے۔پاکستانی حکام کے مطابق وہ مزید افغان پناہ گزینوں کو قبول نہیں کریں گے۔

دوسری جانب چمن میں بعض ذرائع کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان چمن بارڈر پر باب دوستی کے راستے قریبی افغان صوبوں کے شہریوں کو تذکرہ (افغان شناختی کارڈ) پر پاکستان آنے کی اجازت دی جاتی ہے لیکن یہ افغان شہری چمن اور قلعہ عبداللہ سے آگے کوئٹہ کی جانب سفر نہیں کر سکتے۔کابل پر طالبان کنٹرول کے بعد ہزاروں افغانوں نے اپنا ملک چھوڑ کر دوسرے ممالک میں پناہ لی اور اب بھی ہزاروں افراد وہاں سے دوسرے ممالک میں پناہ لینے کی کوشش میں ہیں۔ ان افراد میں بیشتر وہ لوگ ہیں جنھوں نے صدر اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ کام کیا تھا۔اگرچہ طالبان کی جانب سے ان تمام افغانوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا جا چکا ہے اور انھیں ملک نہ چھوڑنے کا کہا گیا ہے لیکن ملک سے باہر جانے والے بیشتر افغان کہتے ہیں کہ وہ طالبان پر اعتماد نہیں کر سکتے اور ان کے جنگجوو¿ں نے ‘عام معافی کے اعلان کے باوجود بھی کئی لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔