Question raised on the death of Swedish cartoonist death

بروسلز: سویڈش کارٹونسٹ لارس ولکس کی، جس نے پیغمبر اسلام محمد ﷺ کے توہین آمیز خاکے بنائے تھے، سڑک حادثے میں موت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ولکس (75) کی موت اس وقت ہوئی جب وہ ایک سویلین پولیس گاڑی میں سفر کر رہا تھا۔ اس کی گاڑی اچانک جنوبی سویڈن کے قصبے مارکریڈ کے قریب ایک ٹرک سے ٹکرا گئی۔ اس کے دو محافظ بھی حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ ولکس پولیس کی سکیورٹی میں تھا کیونکہ اس کو متنازعہ کارٹون بنانے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق پولیس کی حفاظت میں سفر کر ر ہے ولکس کی گاڑی سڑک کے دوسری جانب الٹ گئی۔ اس سڑک پر مخالف سمت سے آنے والے ایک ٹرک نے ان کی گاڑی کو ٹکر ماری ، پھر دونوں گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔

حادثے میں ٹرک کا ڈرائیور بھی جھلس گیا۔ تاہم پولیس اس واقعے کو مشکوک قرار دے رہی ہے۔ یہ حادثہ اتوار کو پیش آیا۔ اب ان کی موت کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا یہ واقعی ایک حادثہ تھا یا انہیں جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ 2007 میں پیغمبر اسلام کے متنازعہ کارٹون سے دنیا بھر میں تنازعہ پیدا کرنے والے کارٹونسٹ کو ہو سکتا ہے کہ 26/11 ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ اور جہادی گروپ لشکر طیبہ کے ذریعہ ہلاک کرایا گیا ہو۔ 2008 کے ممبئی حملے کی منصوبہ بندی دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈ ساجد میر نے کی تھی۔ بھارت اور فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی)نے ممبئی حملوں کے بعد میر کو اپنی انتہائی مطلوب فہرست میں رکھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ مجوزہ حملے کے پس پشت ساجد میر کا ہی دماغ کار فرما تھا۔

واضح ہو کہ 2007 میں حضرت محمد ﷺ کے توہین آمیز خاکے بنانے کے بعد سے ہی لارس ولکس کو مسلسل موت کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ ستمبر 2007 میں القاعدہ نے اس کے سر پر ایک لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کر رکھا تھا۔ 2013 میں جہاد زین نامی خاتون کو 10 سال کی سزا سنائی گئی۔ وہ ولکس کو قتل کرنے کی سازش کر رہی تھی۔ ولکس کو مسلسل دھمکیوں کے بعد اس کی حفاظت کے لیے 2 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ وہ بھی حادثے میں مر گئے ہیں۔سویڈن کی خصوصی پولیس ٹیم واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس اس زاویے سے بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ یہ حادثہ جان بوجھ کر تو انجام نہیں دیا گیا۔ 2015 میں ، لارس ولکس ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں کروڈٹنڈن کیفے میں لوگوں سے خطاب کر رہے تھے۔ عمر الحسین نامی بندوق بردار نے اچانک یہاں فائرنگ شروع کردی ، لیکن ولکس کسی طرح بچ گیا۔ 2011 میں پنسلوانیا کے رہائشی 51 کولن لا روز نے ولکس پر مہلک حملہ کیا۔ 2014 میں لاروز کو اس واقعے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔