Pak FM Qureishi furious on envoy to US

اسلام آباد: پاکستان کے لیے چین سے دوستی ایک جی کاجنجال ثابت ہو سکتی ہے۔ جیسے جیسے پاکستان کی چین کے ساتھ قربت بڑھتی جا رہی ہیں ، ویسے ویسے وہ امریکہ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بار بار امریکہ کو اپنے تعلقات کا حوالہ دے رہا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکہ میں اپنے ملک کے سفیر اسد مجید کودونوں ممالک کے درمیان رابطے کے فقدان پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

میڈیا کے ہاتھ پاکستان کے وزیر خارجہ کی جانب سے وہ خط ہاتھ لگاہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان امریکہ سے دور ہو کر کیسے بے چین ہے۔27 ستمبر 2021 کو لکھے گئے خط میں شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارت خانہ دونوں ممالک کے درمیان اہم روابط قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ خط میں اس بات کابھی ذکر کیا گیا ہے کہ افغانستان میں پاکستان کے اہم کردار ادا کرنے کے باوجود اسلام آباد کو واشنگٹن کی طرف سے وہ توجہ نہیں دی گئی جس کا وہ حقدار تھا۔قریشی نے امریکہ میں موجود پاکستان کے سفیر سے یہ یقینی بنانے کے لئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ پھر سے بہتر تعلقات بنانے کے لئے مناسب سفارتی اقدامات کیے جائیں۔

قریشی نے امریکہ میں اپنے سفارت کاروں کو ڈانٹتے ہوئے لکھا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال اور پاکستان کے ادا کیے اہم کردار کے باوجود یہ بدقسمتی ہے کہ وائٹ ہاو¿س پاکستانی قیادت سے لاتعلق بناہوا ہے۔ پاکستان کی تمام کوششوں کے باوجود امریکہ کے موقف میں کسی بھی طرح کی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ قریشی نے کہا کہ امریکہ کی بے حسی پاکستان کے سفارتی انداز میں خامیوں کی مظہر ہے۔انہوں نے وائٹ ہاؤس کے حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے امریکی صدر کو مشورہ دینے والے وائٹ ہاؤس پاکستانی سفارتخانہ کے عملے کے رحم و کرم پر ہے۔انہوں نے پاکستانی سفارت خانے کو بتایا کہ امریکہ کے ساتھ جلد از جلد رابطے قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

واضح ہو کہ یہ معلومات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکی سینیٹرز کے ایک گروپ نے ایک ہفتہ قبل اس بل کی حمایت کی ہے ، جس میںطالبان کے انخلا میں پاکستان کے کردار کی چھان بین کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اسی دوران پاکستانی وزارت خارجہ نے اس مکتوب کی صداقت کی تردید کی اور کہا کہ سوشل میڈیا میں گردش کر رہا یہ مکتوب مکمل طور پر جھوٹ اور بے بنیاد ہے ۔