PM Modi is karmayogi and leader of the people

جگت پرکاش نڈا(قومی صدر بھارتیہ جنتا پارٹی)

گذشتہ روز یعنی7اکتوبر کو ہمارے معزز وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی نے عوامی عہدے کے سربراہ کی حیثیت سے دو دہائیوں کی مدت مکمل کر لی۔ 7اکتوبر 2001 کو جناب مودی کو اولین مرتبہ گجرات کے وزیراعلیٰ کے طورپر حلف دلایا گیا تھا۔ جناب مودی کا چار مرتبہ گجرات کے وزیراعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دینے سے لے کر دنیا کی سب سے وسیع ترین جمہوریت کے پردھان سیوک کی حیثیت سے عہدہ سنبھالنے کے عوامی خدمت کے 20 برسوں پر محیط یہ طویل سفر بھارت کو خوشحال اور مضبوط ملک – ایک وشو گورو بنانے کے لئے وقف رہا ہے۔ بے مثال کرم یوگی(مرد عمل)، جناب مودی نے ہمارے ملک کو ایک نیو انڈیا کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کا اعتماد عطا کیا ہے۔

مودی جی نے اس وقت گجرات کے وزیراعلیٰ کے طور پر عہدہ سنبھالا تھا جب ریاست بھج میں آئے ہوئے زبردست زلزلے کے بعد غیر معمولی تباہی سے دوچار تھی۔ بھج کی تباہی سے لے کر گجرات کی معیشت اور بنیادی ڈھانچہ کو استحکام بخشنے تک مرکز میں کانگرس کے برخلاف بی جے پی کی چنوتی کو آگے بڑھاتے ہوئے اور اب بھارت کے مکمل تغیر کے لئے کام کرتے ہوئے گذشتہ دو دہائیاں بی جے پی ، گجرات اور اب ہمارے ملک کے لئے ازحد بارآور ثابت ہوئی ہیں۔عہد بندگی، کلی وابستگی اور لگن اور بے لوث خدمت کے راستے پر قدم بڑھاتے ہوئے پردھان سیوک کا حکمرانی کے تئیں اصول ناداروں اور پسماندہ طبقات کی ترقی اور ہمارے ملک کی خوشحالی ہی رہا ہے۔ آج بھارت دنیا میں سرکردہ اور صف اول کی طاقتوں میں کھڑا ہے، جبکہ بی جے پی کو عالمی پیمانے پر سیوا ہی سنگٹھن کے اپنے عہد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے تسلیم کر لیا گیا ہے۔

گجرات کے وزیراعلیٰ کے طور پر جناب مودی نے بھارت کو اور پوری دنیا کے سامنے ترقی کا ایک نیا نمونہ پیش کیا جو اپنی بنیاد میں سماجی بہبود کے ساتھ مجموعی ترقی کے نظریے پر مبنی تھا۔ زلزلے سے متاثرہ بھج کی تعمیر نو، ریاست کو فعال گجرات کے توسط سے دنیا بھر میں سرمایہ کاری کے لئے ازحد سازگار اور سرمایہ کار دوست منزل بناکر پیش کرنا ، ریاست کو بجلی پیدا کرنے کے محاذ پر خودکفیل اور اپنی ضرورت کی تکمیل کے لائق بنانا، عالمی درجے کے بنیادی ڈھانچہ کا قیام، یہ تمام تر ترقیاتی پہلو اور پیش رفت نے گجرات کو عالمی منظرنامے پر ایک مقام دلایا۔

سماجی محاذ پر، جناب مودی نے گجرات کے دیہی اندرونِ ریاست حصوں پر توجہ مرکوز کرکے انہیں تغیر سے ہمکنار کیا۔ کنیا کیلاونی یوجنا، شالا پرویشوتسو اور بیٹی بچاو بیٹی پڑھاﺅ جیسی سکیموں نے سکول میں نام درج رجسٹر کرانے کی کیفیت اور زنانہ خواندگی کی کیفیت کو بہتر بنایا اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے ایک قومی معیار بھی قائم کیا۔ دیہی ترقی کا گجرات ماڈل پوری دنیا کے لئے مطالعہ کا ایک موضوع بن گیا، جہاں جیوتی گرام یوجنا، ای۔گرام وشوگرام، آبی تحفظ اور زیر زمین پانی کے احیا کے پروجیکٹوں نے دیہی گجرات کا چہرہ ہی بدل دیا۔ بھارت کا فیصلہ کن تبدیلی کا لمحہ 2014میں اس وقت آیا جب ملک نے کانگرس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے ایک دہائی پر محیط اقتدار کو، جو بدعنوانی، غلط حکمرانی اور کنبہ پروری کے لئے بدنام تھا، خیرباد کہا۔وسیع پیمانے پر رائے عامہ جناب مودی کے حق میں ہموار ہوگئی جنہوں نے بطور وزیر اعظم نہیں بلکہ بطور پردھان سیوک ملک کی خدمت کا عہد کیا۔ پہلے دن سے ہی انہوں نے اپنے آپ کو غریب ترین فرد کے لئے کام کرنے کے لئے پابند عہد اور از سر نو وقف کیا اور اس طریقے سے نیو انڈیا کی تعمیر کا یہ سفر شروع ہوا۔گذشہ سات برسوں کے د وران جناب مودی نے نادار اور محروم طبقات، ہماری اقلیتوں، نوجوانوں اور خواتین، کاشتکاروں اور مزدوروں، طلبا اور بچوں، شہری اور دیہی طبقات سمیت ہر ایک بھارتی کی زندگیوں کو چھونے کی کوشش کے لئے لگاتار کام کیا ہے۔

جناب مودی ایک عوامی قائد ہیں۔ وہ دنیا کے از حد مقبول عام قائد بھی ہیں۔ ان کی مدت کار پہلے بطور وزیراعلیٰ اور اب بطور وزیر اعظم عوام کے ساتھ برمحل روابط کے متعدد واقعات سے واقف ہے۔گجرات کے وزیراعلیٰ کے طور پر وہ ذاتی طور پر آفاتِ ارض و سماں کے دوران بچاﺅ اور راحت کاری آپریشنوں کی نگرانی کیا کرتے تھے اور جہاں کہیں بھی تباہی رونما ہوتی تھی، وہاں صورتحال کا بہ نفس نفیس جائزہ لینے ، تازہ ترین اطلاعات کے حصول کی غرض سے پہنچ جایا کرتے تھے۔ مجھے یہاں ایسے دو واقعات یاد آر ہے ہیں۔ ایک واقعہ تھا جب جناب مودی نے چھتیس گڑھ میں ایک معمر خاتون کے پیر چھوئے اور دوسرا واقعہ صفائی کارکنان کے پاﺅں دھلانے کا ہے، یہ عمل انہوں نے سوچھ بھارت ابھیان میں ان کے ذریعہ فراہم کرائے گئے تعاون کے اعتراف میں انجام دیا تھا۔ ہمارے پردھان سیوک ایک عظیم مواصلات کار بھی ہیں اور انہیں سامنے والے کو اپنی با ت کا یقین دلانے کا غیر معمولی درک بھی حاصل ہے۔ مثال کے طور پر ملاپورم کے ساحل پر انہوں نے کوڑا کرکٹ ہٹا کر جو سادہ سا پیغام دیا وہ کلین انڈیا کی ملک گیر تحریک بن گئی۔