Reassessment for New India's Economic Reforms

نرمال سیتا رمن
(مرکزی وزیر برائے خزانہ و کارپوریٹ امور)

ہندوستانی معیشت عام طور پر تیز رفتار تبدیلیوں خصوصاً گذشتہ سات برسوں کے دوران ایسی تیز رفتار تبیلیوں کا مشاہدہ کرتی آئی ہے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے تغیراتی حیثیت رکھتی ہیں۔ وقت ہمیں اتنی فرصت نہیں دیتا کہ ہم آہستہ آہستہ ایسی افزوں تبدیلیوں سے ہمکنار ہوں جو نسبتاً کم واضح ہوتی ہیں۔ ہندوستان کو کمزور کرنے والے سوشلزم سے ہٹا کر آہستہ آہستہ منڈی معیشت کی جانب روان دواں کرنا اور اسے ہندوستانی روایات سے ہم آہنگ رکھنا ایک بڑا مرحلہ ہے۔ سوشلزم اور اس کے ساتھ ساتھ لائسنس، کوٹا راج نے ہندوستان کے صنعتکاروں کو زنجیروں میں جکڑ رکھا تھا ۔ اس کے اثاثوں اور وسائل کو مائل بہ انحطاط بنا رکھا تھا اور ہر طرف نا امیدی کا دور دورہ تھا۔ سال1991میں اگرچہ ہماری معیشت میں کھلا پن متعارف کرایا گیا تاہم اس وقت درکار متعدد اقدامات نہیں کیے گئے۔ اس کے نتیجے میں اس کھلے پن کے متعارف کرائے جانے کے باوجود پرانے اثرات باقی رہے اور معیشت کی حالت پہلے جیسی ہی رہی۔ ایک دہائی کے بعد چند کوششوںکو آغاز ہوا ۔

حکومت نے ذمہ داران میں تبدیلیاںکیں۔ بدقسمتی سے اس مختصر مدت کے بعدجو کچھ رونما ہوا وہ بار آور ثابت نہ ہوسکا اور اس نے ہمیںاتنا پیچھے چھوڑ دیا کہ ہمارا شمار پانچ خستہ حال معیشتوں میں کیا جانے لگا۔ جب 2014میں ھکومت بدلی اور وزیر اعظم مودی نے بطور وزیر اعلیٰ پہلے ہی تین مضبوط اصولوں کے ساتھ ایک نئے ہندوستان کی تعمیر کا عہد کر رکھا تھا ہندوستان کو اس کی زبردست آبادی کی شکل میں جو بالا دستی حاصل تھی اس نے اسے ایک ایسی منڈی فراہم کی جو نوجوان صنعت کاروں کے لیے بہت سے مواقع کی حامل تھی۔ان اختراعات کو اجاگر نہیںکیا گیا تھا ۔اگرچہ یہ نوجوان اپنے گھر سے بہت دور رہ کر معیشتوں میں اپنا تعاون دے رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹائزیشن اثر انگیزی میں اضافہ کر سکتے ہیں ۔ نیو انڈیا میں تمام تر بنیادی ضرورتیں مثلاً پانی، صفائی ستھرائی، رہائش اور صحت وغیرہ کا انتظام کیا جائے گا۔ نیو انڈیا کی پالیسیاں عوام الناس کو با اختیار بنانے کے لیے بروئے کار لائی جائیں گی۔ کئی دہائیوں کی کوششوں کے بعد استحقاق کے اصولوں پر مبنی پالیسیاں ناداری، بے روزگاری، اور محرومی کے ماحول کا خاتمہ کرنے میں ناکام ثابت ہوئیں۔

قدیم ہندوستان نے ہماری روایتی ہنر مندی اور صناعی کو ایک تابناک پنجرے میں محفوظ کر رکھا تھا تاہم نمو پذیر منڈیوں تک اس کی رسائی نہ تھی۔ ان کے تحفظ کے نام پر انہیں مخصوص فہرسرت میں ڈال کر رکھا گیا تھا۔ جس کے ذریعہ ان کی رسائی اور مسابقت دونوں ہی محدود کر دی گئی تھیں۔ جن لوگوں نے راج شاہی سے پہلے عالمی منڈیاں فتح کی تھیں ان کے مفادات کو نظر انداز رکرتے ہوئے انہیں کنارے گا دیا گیا تھا۔ہمارے اشت کا ر جو غیر یقینی موسمیاتی حالات میں بھی بھرپور فصلیں اگا رہے تھے وہ بندشوں میں جکڑے ہوئے تھے جس نے ان کی آمدنی کو محدود کر رکھا تھا۔ہمارے جیسے متنوع خواص کے حامل ملک میں مقامی مصنوعات اور ان کی حیثیت ایک ضلع کے اندر محدود تھی ۔ انہیں چھوٹی چھوٹی چیزوں کے زمرے میں رکھا جاتا تھا ۔ ہنر مندیاں ، صناع حضرات ، مقامی مصنوعات ، دودھ سے تیار اشیاءاور ملبوسات سے متعلق امداد باہمی کے ادارے تمام عناصر کو احیا اور نئی زندگی درکار تھی۔ قدیم ہندوستان کورنگ اور ذائقہ بھرنے کے لیے از سر نو کھڑا ہونا تھا۔ اور نئے ہندوستان کو اس کی اپنی جڑیں جمانے کا موقع فراہم کرنا تھا۔ قدیم ہندوستان کو یا تو محفوظ کر کے یا نظر انداز کر کے پیچھے چھوڑ دیا گیا تھا۔ سوشلسٹ بھارت کا ایک مبالغہ آمیز یقین یہ تھا کہ حکومت تقریباً اب کچھ کر سکتی ہے اور تمام چیزیں بہم پہنچا سکتی ہے۔ فولاد سیمنٹ ،گھڑیاں، ٹیلی فون ، ٹائر، فارما سینیکلز ،کنڈوم، اسکوٹر ، کاریں ، بحری جہاز،یہاں تک کہ روٹی تک سرکاری اکائیوں کے ذریعہ تیار کی جاتی تھیں۔

حکومت بینکنگ، بیمہ، ریفائنریوں ، کانکنی، ہوٹلوں، میزبانی، ٹور آپریشنوں ، ہوائی خدمات اور ٹیلی فون مواصلات تک کے شعبوں میں کارفرما تھی۔ اس طرز عمل سے انحراف اور نجی شعبے میں اثر انگیزیوں کو متعارف کرانا ضروری تھا۔ جائز منافع کے پہلو کو تسلیم کرتے ہوئے بطور روزگار اور دولت فراہم کرنے والی اکائیوں کی حیثیت سے صنعتوں کا احترام کرتے ہوئے پالیسی امداد درکار تھی۔ ہندوستان اب ان تمام معاملات میں اصلاحات کا مشاہدہ کر رہا ہے۔اب واضح طور پر ہندوستانی روایات کی حامل منڈی معیشت کی جانب قدم بڑھا رہی ہے۔ یہ تبدیلی بالکل آزاد کاروبار پہلوو¿ں یا ہر طرح کے احساس سے عاری سرمایہ پرستی کی حامل نہیں ہے۔ پالیسی کا رہنما اصول یہ ہے کہ سب کا ساتھ ، سب کا وکاس ، سب کا وشواس اور سب کا پریاس کا نظریہ ہر حال میں پیش نظر رہے۔ مودی1.0میں اصلاحات ،احیا، اور بھرپور احیا کی بہتات ہے، جن دھن یوجنا، آدھار کو مستحکم بنانا اور موبائل کا استعمال (جے اے ایم تثلیث) نے سب سے پہلے ناداروں کو راحت بہم پہنچائی ہے اس کے فوراً بعد پنشن ، راشن ،اینڈھن، مستحقین کو سمان ندھی کے معاملے میں براہ راست فائدہ منتقلی یعنی ڈی بی ٹی کا طریقہ کار اپنایا گیا۔ اس عمل کا بہترین نتیجہ یہ نکلا کہ ٹیکس دہندگان کو کفایت کرنے میں مدد ملی، تمام فرضی اثاثے ختم کر دیے گئے، اور بڑ یمقدار میں سرما یہ کی چوری روک دی گئی۔

اجوولا نے اتنے سارے اہداف کے اصول میں مدد کی اور نا مستحق استعمال کنندگان کو ملنے والی سبسڈی کا راستہ بھی بند کر دیا ۔ اب کسی نادار کو محفوظ اور صحت بخش ایندھن کی فراہمی سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔گڈز اینڈ سروسز ٹیکس نے ملک بھر میں رائج متعدد بالواسطہ ٹیکسوں کو یکجا کر کے ایک شکل دے دی۔ دیوالیہ پن اور دیوالیہ قراردیے جانے سے متعلق کوڈ کو معینی مدت کے اندر دیوالیہ پن کے معاملات کے تصفیہ کے لیے ایک بڑے قدم کی شکل دی گئی۔ مالی شعبہ کی اصلاح چار آر کے اصولوں کے ذریعہ شروع کی گئی۔ یہ اصول تسلیم کرنا، تصفیہ کرنا، از سرنو سرمایہ فراہم کرنا اور اصلاح کرنا۔ غیر منفعت بخش اثاثے (این پی اے) کی وراثت کا مسئلہ حل کیا گیا اور اور اس انداز میں حل کیا گیا کہ آج تقریباً تمام تر بینک فوری طور پر اصلاحی اقدامات عمل میں لا چکے ہیں۔ ان بنکوں کو وقفہ وقفہ سے ازسرنو سرمایہ فراہم کرایا گیا ہے۔ اب وہ منڈی سے بھی سرمایہ بہم پہنچا رہے ہیں۔