Suspected Taliban fighters attack gurdwara in Kabul

کابل/نئی دہلی: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں گردوارہ کرتے پروان میں بھاری ہتھیاروں سے لیس شرپسندوں کا ایک گروہ داخل ہوگیا اور سی سی ٹی وی کیمروں کو توڑنے اور ڈیوٹی پر موجود تینگارڈ کو یرغمال بنانے کے بعد احاطے سے باہرنکل گیا۔ کابل میں رہنے والے ایک افغانستانی سکھ گرنام سنگھ نے فون پر میڈیا کو بتایا کہ 15-16 نامعلوم مسلح افراد دوپہر کے وقت گوردوارہ کارتے پروان میں داخل ہوئے اور وہاں ڈیوٹی پر موجود تین گارڈ کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے۔

انہوں نے کہا کہ شرپسندوں نے سی سی ٹی وی توڑ دیے۔ مقامی حکام کو مطلع کر دیا گیا ہے اور وہ گوردوارہ میںپہنچ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکام نقصان کا معائنہ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب کابل میں رہنے والے ایک افغان ہندوسجن رام شرن سنگھ نے کہا کہ طالبان کی طرح نظر آنے والے مسلح افراد آئے تھے ، لیکن ان کی شناخت سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کے مطالعہ کے بعد سامنے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فوٹیج سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے حوالے کر دی ہے۔ وہ فوٹیج چیک کریں گے اور ہم کل ان کی شناخت کے بارے میں معلوم کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ شرپسندوں نے گوردوارہ میں لگائے گئے تقریبا 4-5 سی سی ٹی وی کیمرے توڑ دیے۔

انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں طالبان کی طرح داڑھی ، پگڑی اوڑھے ہوئے ، سلور قمیض پہنے ہوئے لوگ گوردوارے کے دروازے سے داخل ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ساتھ ہی گرنام سنگھ نے بتایا کہ تینوں محافظ مسلمان ہیں۔مسلح افراد تقریبا 3.15 بجے گوردوارے میں داخل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمرے مہنگے ہیں ، جن کی قیمت 1.5 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ اس سے قبل انڈین ورلڈ فورم کے صدر پونیت سنگھ چنڈوک نے بتایا کہ اسلحہ سے لیس نامعلوم طالبان کا ایک گروہ کابل کے گوردوارہ کرتے پروان میں داخل ہوگیا۔ انہوں نے گورودوارہ میں موجود لوگوں کو اپنی تحویل میں لیا۔ حملہ آوروں کو ابتدائی طور پر افغان سکھ برادری کے ارکان سمجھا گیا تھا۔

چنڈوک نے کہا ،مقامی لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ عہدیداروں نے گوردوارے کے سی سی ٹی وی کیمرورں کو توڑ کر گوردوارے میں توڑ پھوڑ کی ہے۔ مقامی گوردوارہ انتظامیہ موقع پر پہنچ گئی ہے۔انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ طالبان نے نہ صرف مقدس مقام کا تقدس پامال کیا بلکہ اس میں توڑ پھوڑ بھی کی۔ انہوں نے افغانستان میں رہنے والے ہندو اور سکھ بھائیوں کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزارت خارجہ سے مداخلت کرنے کی درخواست کی ہے۔