AQ Khan: Architect of Pak's atom bomb; rogue scientist and nuclear proliferator

اسلام آباد: پاکستان کے اٰیٹمی سائنسداں عبد القدیر خان طویل علالت کے بعد اتوار کے روز انتقال کر گئے۔ وہ85سال کے تھے۔مسٹر خان کو حالت بگڑنے پر ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری ( کے آر ایل) اسپتال لے جایا گیا تھا جہاں انہوں نے صبح سات بج کر 4منٹ پر آخری سانس لی۔ان کے معالجین نے کہا کہ ڈاکٹر خان کے پھیپھڑوں نے کام کرنا بند کر دیا تھا ۔

انہیں پاکستان کا بابائے جوہری بم بھی کہا جاتا ہے۔انہیں پاکستان کو دنیا کا پہلا اسلامی ایٹمی ملک بنانے پر محسن پاکستان قرار دیا گیا تھا اور اس کے صلہ میں انہیں پاکستان کے اعلیٰ ترین قومی عزاز نشان پاکستان سے سرفرازکیا گیا تھا۔ ان کی نماز جنازہ فیصل مسجد اسلام آباد میں سہہ پہر 3 بج کر 30 منٹ پر ادا کی گئی جس میں وفاقی وزرا ور اعلیٰ عسکری قیادت کے علاوہ کثیر تعداد میں عوام نے بھی شرکت کی۔ انہیں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کی وصیت کے مطابق فیصل مسجد کے احاطے میں ہی سپرد خاک کیا گیا ۔

وہ 27 اپریل 1936 کوہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے اور برصغیر کی تقسیم کے بعد 1947 میں اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آگئے تھے۔ انہیں یہ قلق تھا کہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے کسی رکن کی جانب سے کبھی بھی ان کی صحت سے متعلق خیریت دریافت نہیں کی گئی جس کا انہیں بہت افسوس تھا اور اپنے اس افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے ٹوئیٹر کے توسط سے کہا تھا کہ ’مجھے بہت مایوسی ہے کہ وزیراعظم اور نہ ہی ان کی کابینہ کے کسی رکن نے میری صحت کے بارے میں دریافت کیا‘۔