Call to arrest Iran's President Raisi if he attends Cop26 in Glasgow

گلاسگو:(اے یو ایس )ایرانی جیلوں میں تشدد کا شکار ہونے والے افراد کے خاندانوں کی جانب سے اسکاٹ لینڈ کے سیکورٹی حکام کو سرکاری طور پر ایک درخواست پیش کی گئی ہے۔ جس میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ گلاسگو میں ہونے والے ما حولیاتی سربراہ اجلاس میں اگر ایرانی صدر ابراہیم رئیسی شرکت کرتے ہیں تو انہیں فوراً گرفتار کر لیا جائے۔

برطانوی اخبار ٹائمز کے مطابق اسکاٹ لینڈ میں ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی ڈائریکٹر نومی میکولیف نے بتایا کہ ان کی تنظیم کے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ ایران کے موجودہ صدر 1988 میں پر تشدد کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں ۔ وہ اس وقت عدلیہ کے ایک ذمے دار تھے۔یاد رہے کہ ایرانی صدر نے منتخب ہونے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ ہمیشہ سے انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں میں رہے ہیں ۔ دوسری جانب امریکا اور متعدد مغربی غیر سرکاری تنظیمیں ایرانی صدر کو تشدد ، ماورائے عدالت قتل کی وارداتوں اور اسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کا ذمے دار ٹھہرا چکی ہیں۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی رواں سال اگست میں صدر کے منصب پر فائز ہونے تک ملک میں عدلیہ کے سربراہ کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔ ان کا دعوی ہے کہ دورانِ ملازمت انہوں نے جو کچھ کیا وہ ہمیشہ انسانی حقوق ککے دفاع کے واسطے تھا ۔واضح رہے کہ امریکی وزارت خزانہ نے 2019 میں رئیسی کا نام پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔ ان پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ 1988 میں ڈیتھ کمیشن کے رکن تھے۔ علاوہ ازیں یہ کہ وہ 2009 میں سبز تحریک کے نام سے شروع ہونے والی عوامی احتجاجی تحریک کو کچلنے کے عمل میں شریک رہے۔