Maulana Rehmani elected as 8th Amir- e -Shariat

پٹنہ: (اے یوایس) بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کی معروف تنظیم امارت شرعیہ کو اس وقت ایک نیا باقاعدہ سربراہ مل گیا جب مولانا احمد ولی فیصل رحمانی اپنے قریب ترین اور واحد مد مقابل مولانا انیس الرحمن قاسمی کو150ووٹ سے شکست دے کر اس اہم عہدے کے لیے منتخب ہو گئے ۔ واضح رہے کہ سنیچر کوالمعہد العالی پھلواری شریف کے احاطے میں امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کے ارباب حل وعقد کا اجلاس نائب امیر شریعت مولانا شمشاد رحمانی کی صدارت میں منعقد ہوا، اجلاس میں مولانا صغیر احمد رشادی امیر شریعت کرناٹک اور امیر شریعت آسام مولانا یوسف بھی بطور مشاہدین شریک تھے۔

اجلاس میں امیر شریعت کے لیے پانچ امیدواروں کے نا م سامنے آئے۔جس میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، نائب امیر شریعت مولانا شمشاد رحمانی، مولانا احمد ولی فیصل رحمانی، مولانا انیس الرحمن قاسمی، مفتی احمد نذر توحید تھے۔ ارباب حل و عقد نے فیصلہ کیا کہ ان پانچوں ناموں کے درمیان ووٹنگ ہواور جن کے حق میں زیادہ ووٹ ڈالے جائیں گے انہیں امیر شریعت قرار دیا جائے۔مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، مولانا شمشاد رحمانی اور مفتی نذر توحید نےاتفاق رائے کی کوشش کے درمیان اپنے نام واپس لے لیے جس کے بعد مولانا احمد ولی فیصل رحمانی اور اور مولانا انیس الرحمن قاسمی کے درمیان مقابلہ ہوا۔شام چھ بجے نتیجے کا اعلان کیا گیا جس میں مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کو ارباب حل وعقد نے کثرت رائے کی بنا پر امیر شریعت منتخب کرلیا۔مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کو347 ووٹ جبکہ مولانا انیس الرحمان کو197 ووٹ پڑے۔ اس طرح انہوں نے تقریباً150ووٹوں کی اکثریت سے مولانا انیس الرحمان کو شکست دی، اس طرح وہ امارت شرعیہ کے آٹھویں امیر شریعت منتخب ہوگئے۔انتخاب کی تکمیل کے بعد دفتر امارت شرعیہ میں نئے امیر کا استقبالیہ رکھا گیا جس میں مولانا شبلی قاسمی قائم مقام ناظم امارت شرعیہ نے انہیں امارت کے تمام عہدیداران و ملازمین وکارکنان کی طرف سے مبارک باد پیش کی اور کہا کہ آپ جس عظیم خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں آپ کے آباو اجداد نے جو تاریخ رقم کی ہے جو قربانیا ں انہوں نے دی ہیں اس تاریخ کا بڑا حصہ آپ بنیں گے اور اپنے آباواجداد کی تاریخ کو آگے کی طرف لے جائیں گے۔ اس موقع پر معروف صحافی مولانا شارب ضیا رحمانی کی کتاب ”مولانا محمد علی مونگیری کی تعلیمی اصلاحات “ کا بھی نئے امیر شریعت کے ہاتھوں اجرا ہوا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مولانااحمدولی فیصل رحمانی بھی اپنے والد محترم مولانا سید محمد ولی رحمانی اورجدامجد کی طرح علم وعمل کا حسین سنگم ہیں۔ ان کی شخصیت میں عصری اوردینی علوم کا امتزاج ہے۔مولانا احمدولی فیصل رحمانی کی فکر ہے کہ علما جدیدعلوم وٹکنالوجی سے واقف ہی نہیں بلکہ ان کے ماہرہوں چنانچہ انھوں نے جامعہ رحمانی میں شعبہ’دارالحکمت ‘ کاقیام کیااورتقریباََدس برسوں سے آپ کی نگرانی میں کوشش ہے کہ حفظ کے طلبہ بھی حافظ ہونے کے بعد عربی سے اس قدرواقف ہوں کہ قر آن مجیدکاخودترجمہ کرلیں، ساتھ ہی زوردیتے رہے کہ وہاں کے اساتذہ ،کمپیوٹر،ٹیکنالوجی سیکھیں اورجدیدتقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔گہرائی سے اندازہ لگائیں تویہ فکر کوئی عام بات نہیں ہے۔ مصرمیں آپ نے باضابطہ تجویدکی تعلیم حاصل کی۔جامعہ رحمانی میں ابتدائی تعلیم اوروالدبزرگوار سے تربیت کے بعدعالم اسلام کی عظیم یونیورسیٹی جامعہ ازہرقاہرہ ،مصرسے علوم اسلامیہ اورعربی زبان میں درک حاصل کیا،اس کے ساتھ عصری علوم اورجدیدٹکنالوجی کے مانوبادشاہ ہی ہیں۔ان کی انگریزی تقاریرسننے کے بعدعلم کی گہرائی،وسعت مطالعہ کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔ آپ نے مغربی دنیاکوبہت قریب سے دیکھاہے۔امریکہ میں نیوکلیئرپاورپلانٹ اور آئل وگیس محکموں کی اہم ذمے داری نبھائی ہے۔2001سے 2005تک امریکہ کی مختلف اعلیٰ کمپنیوں میں خدمات دیتے رہے۔

آپ کی صلاحیتوں کودیکھتے ہوئے ایکسچنجر کمپنی نے 2005میں بطورفیکلٹی مقررکیا،یہاں مولانافیصل رحمانی پروجیکٹ منجمنٹ،ورک پلاننگ اینڈمانیٹرنگ ،سولیوشن ڈیلیوری فنڈامنٹل کے لکچردیتے رہے۔بڑی عالمی سافٹ ویئرکمپنی ایڈوب کے ایم ڈی ایم کے عہدہ پربھی فائزرہے۔2012میں بی پی کمپنی میں ٹرمنل اینڈٹرانسپورٹ منیجربنائے گئے ،2013میں ماس میڈیااینڈانٹرٹینمنٹ کی ملٹی نیشنل کمپنی ڈزنی میں بطورسروس منیجرتقرری ہوئی۔متعدد بین الاقوامی کمپنیوں میں قائدانہ ذمے داریاں انجام دینے کے بعد2015میں آپ امریکہ کی معروف اوردنیاکی سرفہرست دس یونیورسیٹی میں شامل کیلی فورنیایونیورسیٹی سے ڈائریکٹر آف اسٹریٹیجک پروجیکٹ منجمنٹ کے طورپرمنسلک ہوئے۔ جہاں اب تک مختلف اعلیٰ تعلیم اورکورسزمیں رہنمائی کررہے تھے۔اس کے علاوہ عراق جنگ کے موقعہ پر آپ کی کمپنی نے آپ کی نگرانی میں متعدد رفاہی کام کیے جس کی کافی پذیرائی ہوئی۔ان کے امیر شریعت منتخب ہوجانے سے نوجوان علما میں جوش وخروش ہے۔ نوجوانوں کی طرف سے یہ امید ظاہر کی جارہی ہے کہ نوجوان امیر کی قیادت میں امارت شرعیہ اکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نئی تاریخ رقم کرے گی۔