German firms urge next govt to establish policies to attain climate neutrality

برلن: (اے یوایس) رواں برس ستمبر کے وفاقی پارلیمانی انتخابات کی روشنی میں ابھی مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکراتی عمل جاری ہے کہ کس طرح کی مخلوط حکومت ملکی انتظام سنبھالے گی۔ اس سیاسی عمل کے دوران69 کمپنیوں نے ممکنہ نئی حکومت کے نام ایک کھلا خط تحریر کر کے ا±سے ماحولیات سے متعلق ذمہ داریوں کا احساس دلانے کی کوشش کی ہے۔اس خط میں کمپنیوں نے نئی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ماحولیات کے پیرس معاہدے کے حوالے سے ترجیحی بنیاد پر ایسی پالیسیاں بنائے جو ماحول دوست ہوں۔ یہ خط ماحول دوست تنظیم فاو¿نڈیشن2 ڈگری نے کمپنیوں کو قائل کروا کر لکھوایا ہے۔ اس فاو¿نڈیشن کے چیرمین کاروباری شخصیت مائیکل اوٹو ہیں۔

جن کمپنیوں نے اگلے ہفتوں میں قائم ہونے والی نئی وفاقی حکومت کے نام خط تحریر کیا ہے، اس میں بڑی جرمن کمپنی بائر بھی شامل ہے۔جن69 کمپنیوں نے اگلے ہفتوں میں قائم ہونے والی نئی وفاقی حکومت کے نام خط تحریر کیا ہے، اس میں کیمیکل انڈسٹری کی کثیر الاقوامی بڑی جرمن کمپنی بائر بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ فولاد ساز ادارہ تھوسن کروپ اور کھیلوں کا سامان بنانے والا مشہور برانڈ پ±وما بھی شریک ہیں۔ آن لائن کاروبار کرنے والی کمپنی اوٹو بھی خط پر دستخط کرنے والوں میں شامل ہے۔ اس مناسبت سے اوٹو کے انتظامی بورڈ کے چیرمین مائیکل اوٹو کا کہنا ہے کہ وفاقی الیکشن میں ماحولیات کا معاملہ سبھی سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے کا ایک اہم حصہ تھا اور اب اس حساس معاملے کو انہیں اپنی ممکنہ حکومت میں واضح فوقیت دینا ضروری ہے۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق جرمنی ماحول کو نقصان پہنچانے والی گیسوں (گرین ہاو¿س گیسز) کی شرح میں کمی لانے میں کسی حد تک مقررہ ہدف سے پیچھے رہ گیا ہے۔

رواں برس کے دوران جرمن کارخانوں کی چمنیوں سے ماحول دشمن گیسوں کے اخراج میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی ایک وجہ جرمن معیشت میں کورونا وبا کی وجہ سے پیدا گراوٹ ہو سکتی ہے۔ سابقہ حکومت نے ماحول دشمن گیسوں کے اخراج کو 2045 میں صفر پر لانے کے ایک منصوبے کی منظوری بھی دی تھی۔ خط لکھنے والی کمپنیوں کا یہ کھلا مراسلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام عالم برطانوی علاقے اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں اس ماہ کے اواخر میں شروع ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اس کانفرنس کا انتظام اقوام متحدہ نے کر رکھا ہے۔ گزشتہ ماہ ستمبر کے آخری ہفتے میں جرمنی میں وفاقی الیکشن کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور اب حاصل کردہ ووٹوں کی بنیاد ہر پارلیمان میں سیٹوں کی تقسیم بھی مکمل ہو چکی ہے۔

اس الیکشن میں ڈالے گئے ووٹوں کے نتیجے میں سینٹر کی جانب جھکاو¿ رکھنے والی بائیں بازو کی سیاسی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کو سبکدوش ہونے والی چانسلر انگیلا میرکل کے یونین بلاک (سی ڈی یو اور سی ایس یو) پر معمولی سی برتری حاصل ہوئی تھی۔ بظاہر پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ہے لیکن وہ تنہا حکومت تشکیل دینے سے قاصر ہے۔ اب مخلوط حکومت تشکیل دینے کے لیے بڑی پارٹیاں ‘کنگ میکرز’ سیاسی جماعتوں گرین پارٹی اور فری ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ مذاکراتی عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ماحول دوست گرین پارٹی اور کاروبار نواز فری ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماو¿ں کی ملاقاتیں گزشتہ ایام میں ہو چکی ہیں۔