Government of Punjab challenges Lahore High Court's order to release TLP chief Saad Rizvi

لاہور:(اے یو ایس ) پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت کی جانب سے کالعدم مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ حافظ سعد رضوی کی رہائی کے عدالتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ نے سعد رضوی کے چچا کی درخواست پر ان کی نظر بندی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیا تھا اور پنجاب حکومت نے پیر کو سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں انھیں ہی فریق بنایا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے سعد رضوی کو رہا کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔پنجاب حکومت کا موقف ہے کہ عدالتِ عالیہ کو اس کیس سے متعلق تفصیلی ریکارڈ بھی فراہم کیا گیا تھا اور یہ کہ سعد رضوی کی نظربندی کا حکومتی فیصلہ قانونی طور پر درست ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ سعد رضوی کی رہائی کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں سپریم کا دو رکنی بینچ سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں اس درخواست کی سماعت کرے گا۔خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے بعد ضلع انتظامیہ نے سعد رضوی کی کوٹ لکھپت جیل سے رہائی کے احکامات جاری کیے تھے تاہم ان کی رہائی تاحال عمل میں نہیں آئی ہے۔سنیچر کو لاہور کے ڈپٹی کمشنر عمر شیر کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ وہ سعد رضوی کی فوری رہائی کی اجازت دے رہے ہیں۔بی بی سی کے عمر دراز ننگیانہ سے بات کرتے ہوئے عمر شیر نے اس اعلامیے کی تصدیق کی ہے جس میں سعد رضوی کی رہائی کے لیے وفاقی نظرثانی بورڈ (ایف آر بی) کے حالیہ فیصلے اور لاہور ہائی کورٹ کے اس ضمن میں فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ اپنے والد خادم رضوی کی وفات کے بعد مذہبی جماعت ٹی ایل پی کے سربراہ مقرر ہونے والے سعد رضوی کو پہلے وفاقی حکومت کے احکامات پر ایم پی او (نقص امن عامہ) کے قانون کے تحت نظر بند کیا گیا تھا اور ساتھ ہی انھیں انسدادِ دہشت گردی کے قانون کی دفعہ 11 ٹرپل ای کے تحت بھی جیل میں رکھا گیا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر لاہور عمر شیر نے بتایا کے ان کی طرف سے سعد رضوی کی رہائی کے لیے اعلامیہ انسدادِ دہشت گردی کی اسی دفعہ کے حوالے سے جاری کیا گیا ہے جس کے تحت حکومتِ پنجاب نے انھیں گرفتار کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ جیل سے رہائی کے لیے اب ٹی ایل پی کے سربراہ کو پولیس کو ایک بانڈ جمع کروانا ہو گا جس میں وہ اس بات کی یقین دہانی کروائیں گے کہ وہ دوبارہ ان کارروائیوں میں ملوث نہیں ہوں گے جن کی وجہ سے انھیں گرفتار کیا گیا تھا۔ ’ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ان کے خلاف مزید مقدمات تو درج نہیں جن میں وہ پولیس کو مطلوب ہیں۔‘اس سے قبل وفاقی نظرثانی بورڈ میں پنجاب حکومت نے سعد رضوی کی نظربندی میں توسیع کی درخواست واپس لے لی تھی۔

اس پر نظرثانی بورڈ نے احکامات جاری کیے تھے کہ اگر سعد رضوی کسی اور کیس میں مطلوب نہیں تو انھیں رہا کر دیا جائے۔رواں سال اپریل کے دوران لاہور کے یتیم خانہ چوک پر ٹی ایل پی کارکنان اور پولیس اہلکاروں کے درمیان پرتشدد کارروائیوں میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔سپریم کوٹ کے جج جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں تین رکنی بورڈ نے مقدمے کی سماعت سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کی تھی۔یاد رہے کہ رواں برس 9 جولائی کو سعد رضوی کو وفاقی حکومت کی طرف سے انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت جاری کردہ ایک نوٹیفیکیشن پر دوبارہ نظربند کر دیا گیا تھا۔انھیں اسی روز رہا کیا جانا تھا کیونکہ ہائی کورٹ کے نظرثانی بورڈ نے پنجاب حکومت کی طرف سے سعد رضوی کی ایم پی او کے تحت نظربندی میں توسیع کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔