Lebanon power supply back online after army steps in

بیروت: (اے یوایس) فوج کی جانب سے ایندھن کی فراہمی کے بعد لبنان میں فسادات پھوٹنے کا خدشہ ختم ہوگیا ہے، حکومتی وزیر نے اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر میں بلیک آو¿ٹ ختم ہوگیا ہے۔وزیر توانائی ولید فیاد کا کہنا تھا کہ ایندھن کی فراہمی کے بعد گرڈ اسٹیشن دوبارہ چالو ہو گئے ہیں، انہوں نے فوج کی جانب سے 6000 کلو لیٹر گیس دینے کا بھی شکریہ ادا کیا۔

دوسری جانب لبنانی شہریوں نے اپنی روزمرہ زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں دیکھی کیونکہ ریاست مہینوں سے بمشکل ایک سے دو گھنٹے ہی بجلی مہیا کر رہی ہے۔واضح رہے کہ لبنان نے 1975 سے 1990 کے دوران کی خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سے ملک بھر میں بجلی کی کمی کا سلسلہ جاری ہے لیکن معاشی بحران نے حالات کو انتہائی خراب کر دیا ہے۔

بین الاقوامی برادری طویل عرصے سے لبنان کے خسارے میں چلنے والے بجلی کے شعبے کی مکمل بحالی کا مطالبہ کر رہی ہے جس کی وجہ سے حکومت کو 1990 کی دہائی کے اوائل سے اب تک 40 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔گذشتہ روز حالات اس نہج پر پہنچے تھے کہ ایندھن کی کمی کے باعث ملک میں چالو آ خری دو پاور سٹیشن بھی بند ہوئے جس کے بعد پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا تھا، معاشی ماہرین اور سیاسی مبصرین نے بجلی بحران کو معاشی زوال کی علامت قرار دیتے ہوئے خطرے سے خبردار کردیا ہے۔