New chapter opened in Afghanistan, world relations: Muttaqi

کابل: اسلامی امارات افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا ہے کہ اسلامی امارات نے پوری دنیا اور علاقائی ممالک کو اچھے اور خوشگوار تعلقات کا پیغام بھیجا ہے اور اس نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات کا نیا باب کھول دیا ہے۔ دوحہ انسٹی ٹیوٹ کے ایک ا سٹڈی سینٹر میں خطاب کرتے ہوئے متقی نے کہا کہ افغانستان کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا اور توقع ہے کہ دوسرے ممالک بھی ایسا نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان نے دنیا کو دوستانہ تعلقات کا مثبت پیغام دیا ہے۔ ہم کسی ملک کے اندرونی معاملات میںمداخلت نہیں کرنا چاہتے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ دوسرے ممالک بھی ہمارے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔

متقی نے کہا کہ امارت اسلامیہ مذاکرات کے ذریعہ کابل میں داخل ہونا چاہتی تھی لیکن غنی کے فرار اور سلامتی دستوں کا چوکیاں خالی چھوڑ کر چلے جانے کے بعد لوگوں نے ان سے کہا کہ وہ شہر میں داخل ہوں اور سیکورٹی کی ذمہ داری لیں۔قائم مقام وزیر خارجہ کے مطابق ، امارت اسلامیہ افغانستان کے ثقافتی اور سماجی تنوع پر یقین رکھتی ہے اور اسے قبول کرتی ہے۔لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے متقی نے کہا کہ امارت اسلامیہ نے ا سکولوں کو دوبارہ کھولنا شروع کر دیا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ ان کے مطابق امارت اسلامیہ کے کابل میں داخل ہونے سے پہلے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے اسکول بند تھے۔متقی نے افغانستان کے جغرافیائی محل وقوع کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ افغانستان خطے میں ایک سنگم کی حیثیت رکھتا ہے اور امارت اسلامیہ افغانستان کی اس صلاحیت کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

متقی نے مزید کہا کہ دوحہ معاہدے پر مکمل عمل درآمد امریکہ اور امارت اسلامیہ کے درمیان کسی بھی مسئلے کو حل کر سکتا ہے۔ انہوں نے معاہدے کے اصولوں پر عمل کرنے پر زور دیا۔متقی نے مزید کہا کہ افغانستان کی صورتحال دیگر ممالک سے مختلف ہے اور عالمی برادری کو اس بات کو سمجھنا چاہیے۔ ہم افغانستان میں جو چاہتے ہیں وہ ایک سیاسی ڈھانچہ ہے جو ہمارے ملک کی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور ساتھ ہی بین الاقوامی نظام میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے۔ متقی نے یہ بھی کہا کہ عالمی برادری کو امارت اسلامیہ پر اصلاحات لانے کے لیے دباو¿ نہیں ڈالنا چاہیے بلکہ اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔متقی کے مطابق سابقہ حکومت بین الاقوامی برادری کے تعاون کے باوجود بیس سالوں میں تمام شعبوں میں اصلاحات لانے میں ناکام رہی۔ لیکن اب عالمی برادری امارت اسلامیہ سے چند ماہ میں اصلاحات کرنے کا کہہ رہی ہے۔