Taliban are the only option to get rid of ISIS :says Imran Khan

اسلام آباد: (اے یوایس) پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں ہونے والے واقعات ابھی ارتقائی مراحل میں ہیں، ہمارے جیسے لوگوں کو علم نہیں کہ یہ کیا کروٹ لیں گے۔ ڈیوڈ ہرسٹ اور پیٹر اوبورن کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ اب افغانستان میں امریکہ موجود نہیں ہے، واضح ہے کہ ایک خلا پیدا ہوگا۔ اس خلا کو کون پر کرے گا؟ چین ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے تاہم جس نقطہ نگاہ سے ہم دیکھتے ہیں اور ہماری علاقائی ممالک سے بات ہوئی، ہر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ ایک زبردست موقع ہے۔‘ پاکستان کے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ داعش سے چھٹکارا پانے کے لیے طالبان واحد آپشن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘کیونکہ افغانستان ان تمام ممالک کے لیے ایک تجارتی گزرگاہ ہے۔ وسطی ایشیائی ممالک، افغانستان کے راستے بحر ہند اور پاکستان تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ انتہائی اہم ملک ہے، ہماری خواہش ہے کہ ایسا نہ کہا جائے کہ آیا آپ امریکہ کے طرفدار ہیں یا چین کے؟ بلکہ وہ ہونا چاہیے جس کی اس پورے خطے کو ضرورت ہے۔ اقتصادی تعاون اور اقتصادی رابطہ ہونا چاہیے اور ہم یہی امید کرتے ہیں۔’ وزیراعظم کا افغان طالبان کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’انہیں تنہا کرنا، ان پر پابندیاں عائد کرنا باقی اثرات کے علاوہ ایک بہت بڑے انسانی بحران کو جنم دے گا۔‘عمران خان نے کہا کہ ‘یہ ایک نازک لمحہ ہے اور امریکہ کو خود کو مجتمع کرنا ہوگا کیونکہ امریکی اس وقت صدمے کی کیفیت میں ہیں۔

ان کا خیال تھا کہ وہاں جمہوریت ہوگی، قوم تشکیل پائے گی اور خواتین کو آزادی ملے گی۔ مگر اچانک وہ دیکھتے ہیں کہ طالبان دوبارہ آ گئے، میرا خیال ہے کہ ابھی تک وہ صورتحال کو ہضم نہیں کر پائے ہیں۔ وہ شدید غصے، حیرت اور صدمے کی کیفیت میں ہیں۔’اس سوال پر کہ جب آپ نے یہ نکات امریکی صدر جو بائیڈن کے سامنے رکھے تو ان کا کیا کہنا تھا؟ عمران خان نے جواب دیا کہ ‘میری صدر بائیڈن سے اب تک بات نہیں ہوئی۔’اس پر ان سے پوچھا گیا آپ کی اب تک صدر بائیڈن سے بات کیوں نہیں ہوئی؟ تو عمران خان نے جواب دیا کہ ’یہ ان پر ہے، وہ ایک سپر پاور ہیں۔‘وزیراعظم کا افغانستان کی عملی صورتحال کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہنا تھا کہ ’20 سالہ خانہ جنگی سے افغانستان میں تباہی مچی۔ درحقیقت حکومت کا شہروں کی حد تک کنٹرول تھا۔ دیہی علاقے تو طالبان کے زیر اثر تھے، اب آپ کے سامنے ایسی صورتحال ہے کہ طالبان نے حکومت سنبھال لی ہے۔‘

عمران خان نے کہا کہ ’وہ انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں اور یہ کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔ یہ افغانستان کے لیے بہت نازک لمحہ ہے۔‘ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’دنیا کو لازماً افغانستان سے بات کرنی چاہیے کیونکہ اگر وہ انہیں اپنے سے دور کرتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ طالبان کے اندر سخت گیر بھی ہوں گے۔ یہ معاملہ 20 سال پرانے یعنی 2002 والے طالبان کے ہاتھوں میں جا سکتا ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ‘ایسا ہونا تباہی ہوگی کیونکہ ناٹو کی 20 سالہ موجودگی، دو ہزار ارب ڈالر کا خرچہ، لاکھوں لوگوں کا جان سے جانا ضائع ہو جائے گا۔ اگر ویسے ہی بحران کی واپسی ہوتی ہے تو وہاں افراتفری ہوگی۔ یہ داعش جیسے دہشت گردوں کے لیے ایک زرخیز سرزمین بن جائے گی۔ جو درحقیقت ہم سب کے لیے پریشانی کا باعث ہے خاص کر پاکستان کے لیے۔ میرے خیال میں یہ مکمل ضیاع ہوگا۔ امریکہ دنیا کو کیا دکھائے گا کہ اس نے وہاں 20 سال میں کیا کیا ہے۔ ایک مستحکم افغان حکومت داعش سے بہتر طور پر نمٹ سکتی ہے اور یقین کریں کہ طالبان داعش سے چھٹکارا پانے کے لیے بہترین آپشن ہیں۔ بلکہ وہ واحد آپشن رہ گئے ہیں۔’