Afghanistan should not become source of terror: PM Modi at G-20

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے اس موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہ افغانستان کو انتہاپسندی اور دہشت گردی کا عالمی یا علاقائی اڈہ نہ بننے دیا جائے خطہ میں انتہاپسندی، دہشت گردی اور منشیات و اسلحہ کی اسمگلنگ کے رابطوں کے خلاف مشترکہ لڑائی کی اپیل کی۔

مودی نے یہ بات دنیا کے سرکردہ 20 ممالک کے جی 20 گروپ کی افغانستان کے مسئلے پر خصوصی سربراہ اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے خطاب میں کہی۔ ورچوئل خطاب میں وزیر اعظم نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان کے لوگوں کے لیے فوری طور پر انسانی امداد کا راستہ تلاش کرے اور ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ افغانستان کی سرزمین ،دنیا کے لئے دہشت گردی یا مذہبی بنیاد پرستی کااڈہ نہ بنے۔

افغانستان میں گذشتہ20سال کے دوران سماجی و اقتصادی حصول کے تحفظ اور وہاں انتہاپسندانہ نظریہ کے پھیلاو¿ پر بندش لگانے کے لیے وزیر اعظم مودی نے ایک بار پھر کہا کہ افغانستان میں ایسی مخلوط حکومت تشکیل دی جائے جس میں تمام مکاتب فکر خاص طور پر خواتین اور اقلیتوں کی مناسب نمائندگی ہو ۔ دوستی کے عظیم احساس کے حوالے سے، جو کہ افغان لوگ ہندوستان کے تئیں محسوس کرتے ہیں ،بات کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھوک اور ناقص غذائیت کے شکار افغان عوام کا درد ہر ہندوستانی محسوس کرتا ہے۔

انہوں نے افغانستان کے لیے انسانی امداد تک فوری اور بلا روک ٹوک رسائی پر بھی زور دیا۔ اس سربراہ اجلاس کا اہتمام جی۔ 20 کی صدارت کر رہے اٹلی کے وزیر اعظم ماریو ڈراگی نے کیا تھا۔اس کا ایجنڈا افغانستان میں انسانی بحران ، دہشت گردی سے متعلق تشویشات اور انسانی حقوق سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔جی 20-گروپ ہندوستان سمیت دنیا کی 20بڑی معیشتوں پر مشتمل ہے۔پاکستان کی پشت پناہی اور امریکی فوجی انخلا سے طالبان کے افغانستان میں بر سر اقتدار آنے کے بعد ہندوستان کو دہشت گردی کے حوالے سے سخت تشویش لاحق ہو گئی ہے۔