Chinese President Xi Jinping calls for 'peaceful' reunification with Taiwan

بیجنگ: چین میں آخری شاہی خاندان کے خاتمے کے انقلاب کی 110 ویں سالگرہ کے موقع پر دارلحکومت بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں منعقد ایک تقریب میں چین کے صدر شی جن پنگ نے ہفتے کے روز کہا کہ تائیوان کے ساتھ دوبارہ اتحاد پرامن طریقے سے ہوگا۔ اس سے قبل چین نے تائیوان پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ شی نے سرکاری تقریب میں کہا کہ تائیوان چینی قوم کے ساتھ پرامن طریقے سے دوبارہ مل جائے گا ، جو سب کے مفاد میں ہے۔چین کے انتہائی پرجوش لیڈر شی جن پنگ ملک کی تاریخ کی طاقتور ترین فوج کی قیادت کر رہے ہیں۔

کچھ لوگوں کاکہنا ہے کہ شی جن پنگ 2022 میں اپنی تیسری میعاد حاصل کرنے کے لیے نئی چال چل رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر تائیوان کو چین سے ملا لیا جاتا ہے تو انہیں عوامی حمایت حاصل ہو گی۔ یہی نہیں ، وہ ما و¿زے تنگ کے بعد چین کے دوسرے مضبوط لیڈر بھی مانے جاتے ہیں۔جن پنگ کا بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب تائیوان میں فوجی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ صدر نے پہلے کہا تھا کہ تائیوان کا مسئلہ چین کے اندرونی معاملات میں سے ایک ہے اور ان کا ملک باہر سے مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔ لیکن اب امریکہ کے بیان کے بعد چین کے رویے میں نرمی آئی ہے۔ دو دن پہلے یہ خبریں آئی تھیں کہ امریکی فوج کے خصوصی کمانڈوز تائیوان میں موجود ہیں اور تائیوان کی فوج کو تربیت دے رہے ہیں۔

تائیوان کے معاملے پر امریکہ نے چین کو واضح طور پر خبردار کیا کہ چین کی اشتعال انگیز فوجی سرگرمی علاقائی امن اور استحکام کو کمزور کر دیاہے۔تقریب میں ، جن پنگ نے کہا کہ چین کے ساتھ انضمام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تائیوان کی آزادی افواج ہیں۔ انہوں نے کہا ، جو لوگ اپنے ورثے کو بھول جاتے ہیں ، اپنی مادر وطن سے غداری کرتے ہیں اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کاکبھی بھلا نہیں ہو گا۔چینی صدر نے کہا کہ ون کنٹری ٹو سسٹم پالیسی کے تحت وہ تائیوان کو اپنے ملک کے ساتھ پرامن طریقے سے ضم کریں گے۔ کہا کہ یہ بالکل ہانگ کانگ میں استعمال ہونے والی پالیسی کی طرح ہے۔ اس نظام کی عام طور پر تائیوان نے مخالفت کی ہے۔