Khan: 'Taliban of 2000' might return if no IIntl engagement

لندن: پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے خبردار کیا ہے کہ اگر امارت اسلامیہ سے پابندیاں نہیں ہٹائی گئیں تواس بات کا قوی امکان ہے کہ افغانستان 1990 کی دہائی میں واپس جاسکتا ہے۔ لندن کے ایک آن لائن نیوز پورٹل سے دوران گفتگو عمران خان نے عالمی برادری کو تلقین کی کہ وہ امارت اسلامیہ پر عائد پابندیوں میں نرمی کرے اور طالبان کے ساتھ بات چیت کرے۔ بصورت دیگر افغانستان بڑی آسانی سے سال 20قبل 2000کے طالبانی دور میں واپس چلا جائے گا۔اور اگر ایسا ہوا تو یہ تباہ کن ہوگا۔

عمران خان نے کہا کہ دنیا کے لیے افغانستان سے اظہار وابستگی کرنا ایک بہت اہم نکتہ ہے۔ عمران نے کہا کہ وہ طالبان کو افغانستان میں داعش کو شکست دینے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر دیکھتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ طالبان نے عالمی برادری سے وعدہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں انسانی حقوق کا احترام کرے گا اور دہشت گرد گروہوں سے تعلقات ختم کرے گا۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ان کا یقین کریں دولت اسلامیہ فی العراق و الشام (داعش) سے نجات حاصل کرنے کے لیے طالبان موثر ذریعہ ہیں۔ دریں اثنا ، بین الاقوامی تعلقات کے کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کا اسلامی امارات کو تسلیم کرنے پر پیہم اصرار اور افغانستان کے حوالے سے ان کے بیانات افغانستان کے داخلی امور میں مداخلت کے مترادف ہیں ۔

بین الاقوامی تعلقات کے ماہر محمد خان اندار نے کہا کہ یہ تشویشناک بات ہے کہ افغان حکومت کے بجائے پاکستان اسے تسلیم کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو خود افغانستان کے حالات پر نظر رکھنی چاہیے۔سیاسی تجزیہ کار سید حکیم کمال نے کہا کہ پاکستان اپنے فائدے کے لیے طالبان کو تسلیم کرنے پر زور دے رہا ہے ، کیونکہ افغانستان کے حالات کے پس پشت اسی کا ہاتھ کارفرما ہے اور آج بھی وہ افغانستان کے امور میں دخل اندازی کر رہا ہے۔

امارت اسلامیہ افغانستان کی وزارت اطلاعات و ثقافت کے ثقافتی کمیشن کے مطابق افغانستان کے پڑوسیوں کو چاہئے کہ وہ اسلامی امارات کو تسلیم کرنے کی اپیل کی حمایت کر یں۔وزارت اطلاعات و ثقافت کے ثقافتی کمیشن کے رکن نور محمد متوکل نے کہا کہ پاکستان کی طرح پڑوسی ممالک بھی فغانستان کی نئی حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کوشش کریںاور دنیا کو افغانستان کی نئی حکومت کو تسلیم کرنا چاہیے۔بین الاقوامی برادری نے بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ امارت اسلامیہ اگر خود کو تسلیم کرانا چاہتی ہے تو وہ انسانی حقوق خاص طور پر حقوق نسواں کا احترام کرے اور اس امر کو یقینی بنائے سرزمین افغانستان کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔