There won't be coal crisis for power generation: Union minister

نئی دہلی: ملک میں کوئلے کی قلت کے حوالے سے پیدا ہونے والے بحران کے درمیان کوئلہ کے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کوئلہ کی کمی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ کل ہندوستان میں اب تک کا سب سے زیادہ کوئلہ سپلائی کیا گیا۔ جوشی نے نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات چیت میں کہا کہ بارش کی وجہ سے کوئلہ کی کمی ہوگئی ، جس کی وجہ سے بین الاقوامی قیمتوں میں 60 روپے سے 190 روپے فی ٹن کا اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد امپورٹیڈ کوئلہ پاور پلانٹس یا تو 15۔ 20 دنوں کیلئے بند ہوگئے یا بہت کم پروڈکشن کرنے لگے ، اس سے گھریلو کوئلے پر دباو بڑھ گیا۔

پرہلاد جوشی نے کہا کہ ہم ریاستوں سے اسٹاک بڑھانے کی درخواست کررہے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کوئلے کی کمی نہیں ہوگی۔ واضح ہو کہ کوئلے کی کمی کی وجہ سے دہلی ، پنجاب اور چھتیس گڑھ جیسی ریاستوں نے کوئلے کا اسٹاک ختم ہونے اور بلیک آو¿ٹ ہونے کی وارننگ دی ہے۔ کوئلے کی کمی کی وجہ سے مہاراشٹر کو بجلی کے بحران کا سامنا ہے۔ ریاست میں تقریبا 3000 میگاواٹ کی قلت ہے۔ منگل کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے مہاراشڑ کے وزیر توانائی نے اس کے لیے مرکزی حکومت اور بارش کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

مہاراشٹر میں کوئلے کی فراہمی میں کمی کا اثر یہ ہوا کہ پیر کو ریاست میں بجلی کے 13 یونٹ بند رہے۔ منگل کی شام تک یہ تعداد کم ہو کر 7 یونٹ رہ گئی ہے ۔ ریاستی وزیر توانائی نتن روت نے منگل کی شام ایک پریس کانفرنس کی اور اس کمی کے لیے کول انڈیا کے عہدیداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا انھوں نے کہا اس کی سب سے بڑی وجہ کول انڈیا کے انتظام کا فقدان ہے۔

وزیر بجلی نے کہا ریاست میں تقریبا 3000 میگاواٹ کی قلت ہے۔ اس کے لیے ستمبر کے آخر میں ریاستی حکومت نے 20 روپے فی یونٹ بجلی خریدی اب وہ اسے 17 روپے میں خرید رہی ہے۔ریاستی حکومت نے کوئلہ لانے کے لیے 1 ہزار کروڑ روپے دیے ہیں۔کچھ کمپنیاں ایسی ہیں جن کے ساتھ ریاست نے بجلی کی فراہمی کا معاہدہ کیا تھا لیکن انہوں نے اسے پورا نہیں کیا انکے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ریاست میں کہیں بھی بجلی کی کٹوتی نہیں ہوگی۔