Army does not discriminate on basis of gender, says Army Chief

نئی دہلی: آرمی چیف جنرل منوج مکند نراوانے نے کہا ہے کہ صنفی بنیادوں پر فوج کسی بھی طرح امتیازی سلوک نہیں کرتی ، اور حیرانی ہے کہ اب تک خواتین کے لیے نیشنل ڈیفنس اکیڈمی(این ڈی اے)کے دروازے کیوں بند ہیں۔ آرمی چیف نے یہ بھی واضح کیا کہ ابھی تک کامبیکٹ برانچ میں خواتین کو شامل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کی کانفرنس میں آرمی چیف نے این ڈی اے میں خواتین کے داخلے سے متعلق سپریم کورٹ کے سوال پر کہا کہ مسلح افواج میں زبان ، مذہب ، صنف یا کسی اور کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہوتا ہے اور جہاں تک کہ خواتین کے فوج میں شامل ہونے کا سوال ہے ، ہم نے کبھی اس پر اعتراض نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ فوج خواتین کے ساتھ بہت سنجیدہ ہے اور کچھ بھی نہیں ہے کہ ہم اس صورتحال میں کام کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

بنگلہ دیش ڈیفنس اکیڈمی کی مثال دیتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ اس میں کئی سالوں سے خواتین کیڈٹس ہیں اور مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم کیوں پیچھے ہیں۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا مستقبل قریب میں خواتین کو کامبیکٹ برانچ میں بھیجا جائے گا ، آرمی چیف نے کہا کہ خواتین کو صرف 10 شاخوں میں کمیشن دیا جا رہا ہے اور ابھی تک اس کے بارے میں کوئی جھوٹے وعدے نہیں کیے جا سکتے۔

فی الحال خواتین کو انفنٹری ، میکانائزڈ انفنٹری ، آرٹلری اور آرمرڈ کور میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ جنرل نروانے کہا کہ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔ ابھی ہمارے پڑوسی ممالک میں سے کسی نے بھی خواتین کے لیے کامبیکٹ برانچیںنہیں کھولیں اور ایسا نہیں لگتا کہ مستقبل میں اس میں کوئی تبدیلی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سمت میں ایک قدم اٹھایا گیا ہے کہ دو خواتین کو آرمی ایوی ایشن میں پائلٹ ٹریننگ دی جا رہی ہے اور وہ جنگی زون میں بھی پرواز کریں گی۔