Civil war in Yemen put the country towards drought and economy disaster

اقوام متحدہ:(اے یو ایس ) اقوام متحدہ کے ایک سینئر عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ یمن کے لاکھوں باشندوں کے حالات ہر آنے والے دن کے ساتھ خوفناک اور بدتر ہوتے جا رہے ہیں، کیونکہ سیاسی تنازعات بدستور موجود ہیں اور خانہ جنگی اپنے ساتویں سال میں داخل ہو رہی ہے۔اقوام متحدہ نے یمن میں لوگوں کے حالات کو دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دو کروڑ افراد یعنی ملک کی دو تہائی آبادی کو جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے،کیونکہ 50 لاکھ افراد کو قحط کے خطرے کا سامنا ہے جبکہ تقریباً چار لاکھ بچے خوراک کی قلت اور ناقص غذائیت کے باعث موت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔

انسانی امداد سے متعلق یمن کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندے ڈیوڈ گریسلی کہتے ہیں کہ لوگ دن بھر اس لیے مارے مارے پھرتے ہیں کہ آج کھانے کو کہاں سے ملے گا، پینے کے لیے صاف پانی کہاں سے دستیاب ہو سکے گا اور علاج کے لیے دوائیں کون دے گا۔گریسلی کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ چھ مہینے کے دوران ملک کا سفر کرتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ یہاں درحقیقت کیا ہو رہا ہے، لوگ کن حالات میں جی رہے ہیں اور اپنی گزر بسر کس طرح کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں، لوگ انہیں گھیر لیتے ہیں اور انہیں اپنی پریشانیوں اور مسائل کی داستانیں سناتے ہیں۔گریسلی نے بتایا کہ مائیں یہ بتاتی ہیں کہ ان کے بچے اسکول نہیں جا پا رہے ہیں۔

انہیں پینے کے لیے پانی میسر نہیں ہے۔ یہ کسی ایک فرد یا کنبے کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ ہر گھر اور پورے یمن کا المیہ ہے۔گریسلی کہتے ہیں کہ ہے کہ محاذوں پر لڑائی جاری ہے اور انسانی اور معاشی تباہی کے مناظر ہر جگہ دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشی تباہی کے نمونے انتہائی ظالمانہ ہیں اور انسانیت کی تباہ کاریاں نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔گریسلی نے بتایا کہ میں جس چیز کے بارے میں اس وقت بہت پریشان ہوں وہ یہ ہے کہ اسپتالوں اور پانی کی فراہمی کے نظاموں کے لیے بجلی دستیاب نہیں ہے۔ میں اس لیے فکر مند ہوں کہ سرکاری ملازمین کو تنخواہ نہیں مل رہی۔ آخر وہ تنخواہ کے بغیر کب تک کام کرتے رہیں گے؟ انہیں گزشتہ سال سے تنخواہیں نہیں دی گئیں ہیں۔ یہ تمام چیزیں عام یمنی کی زندگی کو آہستہ آہستہ تباہی کی جانب لے جا رہی ہیں۔

گریسلی کا کہنا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ اگر تین اقدامات کیے جائیں تو یمن کے بحران کا حل نکل سکتا ہے اور بہتر مستقبل کے لیے لوگوں کی امیدیں پوری ہو سکتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بین الاقوامی عطیہ دہندگان کو یمن میں لوگوں کی انسانی ضروریات کی حمایت جاری رکھنی چاہیے۔گریسلی کا کہنا ہے کہ ملک کی تباہ حال معیشت کو سہارا دینے کے لیے فوری کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ کاروبار اور معاشی سرگرمیوں کو بحال کیا جا سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک جامع سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ٹھوس کوششوں کی ضرورت ہے جو اس تباہ حال ملک میں امن لا سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن کے باشندوں کو وہاں کی حکومت، حوثی باغی اور ان کے غیر ملکی سرپرست ملک کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اپنی لڑائی میں چارے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔