Erdogan's popularity dropped, government in danger

انقرہ: ہندوستان اور خاص طور پر کشمیر کے حوالے سے آئے روز زہر اگلنے والے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کی کرسی خطرے میں دکھائی دے رہی ہے۔ ملک میں 2023میں انتخابات ہونے والے ہیں اور ترکی کی چھ اپوزیشن جماعتیں اردوغان اور ان کی پارٹی کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے متحد ہو چکی ہیں۔ لیکن انتخابات سے قبل رائے شماری سے پتہ چلتا ہے کہ حکمران اتحاد کی حمایت ختم ہو گئی ہے ، جس سے صدر اردوغان پر اقتدار چھوڑنے کا دبا ؤبڑھتا جا رہا ہے۔

رائے شماری میں اردوغان کی اے کے پارٹی کو تقریباً31-33 فیصد ووٹ ملے ہیں جو کہ 2018 کے پارلیمانی انتخابات سے بہت کم ہے۔ اس دوران ان کی پارٹی کو 42.6 فیصد ووٹ ملے تھے۔ اے کے پارٹی کی حلیف قوم پرست ایم ایچ پی پارٹی کے ووٹ شیئر میں بھی کمی دیکھی ہے ، اسے سال 2018 میں 11.1 فیصد ووٹ ملے تھے ، لیکن رائے شماری میں پارٹی کو صرف8.09 فیصد ووٹ ہی ملتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اگر اوپنین پول کے نتائج انتخابات میں بھی آتے ہیں ، تواردوغان بمشکل اقتدار میں واپس آ سکیں گے۔

آئی وائی آئی کے صدر بہادر اردیم نے کہا کہ ان چھ جماعتوں کے اکٹھے ہونے سے لوگوں میں امید پیدا ہوئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایک میٹنگ میں کہا کہ اس نئے اتحاد کو مزید وسعت دینے سے انہیں 2019 کے بلدیاتی انتخابات میں اردوغان کو جھٹکادینے میں مدد ملی تھی۔ میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ سال کے آخر تک ایک اصول پر اتفاق رائے تک پہنچنے کے لیے ہفتہ وار اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ترکی میں اپوزیشن جماعتیں کچھ ایسا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ وہ پہلی بار حکومت کا سامنا کرنے کے لیے متحد ہو رہے ہیں۔ مہنگائی ، بے روزگاری ، کورونا وبا ، جنگل میں آگ ، سیلاب اور معاشی بحران جیسے مسائل سے نمٹنے پر اردوغان حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے ان کی حمایت میں بھی کمی آئی ہے۔