Hockey India cannot pull out of Commonwealth Games :Union Sports Minister Thakur

نئی دہلی : ملک کے وزیر کھیل انوراگ ٹھاکر نے آئندہ سال ہونے والے کامن ویلتھ گیمز سے ہٹنے کا یکطرفہ فیصل کرنے کے لئے ہاکی انڈیا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ قومی فیڈریشن کو ایسا کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے حکومت کے ساتھ مشورہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ٹھاکر نے کہا کہ حکومت ملک میں اولمپک کھیلوں کی مرکزی فنڈر ہونے کے ناطے قومی ٹیم کی نمائندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا پورا حق رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کسی بھی فیڈریشن کو اس کا بیان دینے سے بچنا چاہئے اور پہلے حکومت کے ساتھ بات کرنی چاہئے کیونکہ یہ فیڈریشن کی ٹیم نہیں ، قومی ٹیم ہے۔ ٹھاکر نے کہا کہ 130 کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں صرف 18 کھلاڑی ملک کی نمائندگی نہیں کرتے۔ یہ (کامن ویلتھ گیمز)ایک عالمی ایونٹ ہے اور مجھے یقین ہے کہ انہیں (ہاکی انڈیا)حکومت اور متعلقہ محکمہ سے بات کرنی چاہیے۔

حکومت فیصلہ کرے گی۔ ہاکی انڈیا نے کوویڈ – 19 سے جڑے خدشات اور برطانیہ کے آئیسولیشن قوانین کی وجہ سے منگل کو برمنگھم کامن ویلتھ گیمز سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد ٹھاکر کا یہ سخت بیان سامنے آیا ہے ۔ وزیر نے کہا کہ ملک میں ہاکی ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے اور کرکٹ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پیشہ ور کھلاڑیوں کے لیے مسلسل دو ٹورنامنٹس میں کھیلنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ہاکی میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اگر آپ کرکٹ کو دیکھیں تو وہاں آئی پی ایل چل رہا ہے اور پھر ورلڈ کپ ہے۔

اگر کرکٹرز یکے بعد دیگرے دو ٹورنامنٹ کھیل سکتے ہیں تو دوسرے کھیلوں کے کھلاڑی کیوں نہیں کھیل سکتے۔ ٹھاکر نے کہا کہ میں سمجھ سکتا ہوں کہ ایشین گیمز کو ترجیح دی جا رہی ہے اور میں اس تناظر میں نہیں جا رہا ہوں۔ میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ ہندوستانی ٹیم کہاں کھیلے گی ، اس کا فیصلہ تنہا فیڈریشن نہیں کر سکتی بلکہ اس میں حکومت کی اجازت کی بھی ضرورت ہے ۔