Lebanon on edge after sectarian unrest

بیروت:(اے یو ایس ) لبنان میں جاری کشیدگی کے جلو میں ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے کہا کہ کہ حزب اللہ ملک کو خانہ جنگی کی طرف نہیں لے جا رہی ہے مگر ہم اپنے مارے جانے والے اپنے کارکنوں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ مخالف گروپ لبنانی فورسز پر حزب کارکنوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے حزب اللہ کے ایک سرکردہ رہنما ھاشم صفی الدین نے کہا کہ بیروت میں لبنانی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے ملیشیا کے مسلح عناصر پر دانستہ فائرنگ کی گئی۔قبل ازیں حزب اللہ ملیشیا نے بیروت میں دو روزقبل پیش آنے والے پر تشدد واقعات کی تمام تر ذمہ داری سکیورٹی اداروں پر عاید کی ہے۔ ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ اور اس کی اتحادی ’امل موومنٹ‘ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ پرامن احتجاج کے دوران مظاہرین پر مسلح حملہ ایک سوچی سمجھی کارروائی تھی جو لبانی فورسزکی طرف سے کی گئی تھی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ لبنانی مسیحی گروپ کی ’لبنانی فورسز‘ نے الطیونہ کے علاقے اور دیگر مقامات پر اپنے نشانہ باز تعینات کر کے دانستہ طور پر پر امن مظاہرین کو نشانہ بنایا۔دوسری طرف اپوزیشن کی لبنانی فورسزکا کہنا ہے کہ بیروت میں پرتشدد واقعات کی ویڈیوز میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ تشدد کا ذمہ دار کون اور قصور وار کون ہے۔حزب اللہ مخالف گروپ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حزب اللہ کے عناصر ’آر پی جی‘ راکٹوں اور مشین گنوں سے لیس ہیں اور وہ اسلحہ کی کھلے عام نمائش کر رہے ہیں۔ادھر العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق بیروت میں ہونے والے تشدد کے بعد پولیس نے 19 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ فوج نے جبل لبنان میں چھاپے مارے ہیں اور عسکریت پسندوں کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا یا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ قبضے میں لیا گیا اسلحہ جھڑپوں میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جسٹس پیلس کے سامنے پرتشدد مظاہرے اور جھڑپوں میں فائرنگ سے کم از کم چھ افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہو گئے تھے۔ان جھڑپوں کا آغاز گذشتہ برس بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے خوفناک دھماکے کی تحقیقات کرنے والے جج طارق بیطار کے خلاف شیعہ عسکریت پسند گروہوں حزب اللہ اور امل کے احتجاج سے ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ لبنانی فوج میں مسیحی سنائپرز کے ایک دھڑے نے ان پر فائرنگ کی اور ہجوم کو مشکل میں ڈال دیا۔ تاہم لبنانی فورسز نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے۔گذشتہ برس ہونے والے بیروت دھماکے کی تحقیقات کے لیے جسٹس بیطار کی تقرری کے بعد ملک میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں نے جج پر جانب دار ہونے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ متاثرہ افراد کے خاندانوں کا جج کے کام پر اعتماد ہے۔ گذشتہ برس اگست سے اب تک بیروت دھماکے کے لیے کسی کو اب تک ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے حزب اللہ پر انگلیاں اٹھتی رہی ہیں۔