Amid US-China chill, Harvard moves course to Taiwan

واشنگٹن: امریکہ نے ایک بار پھر چین کو آئینہ دکھا تے ہوئے تائیوان کے حق میں بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اس بار امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی نے چین کو بڑا دھچکا دیا ہے۔ہارورڈ یونیورسٹی نے چینی زبان کے پروگرام کو بیجنگ سے ہٹا کر تائیوان کو منتقل کردیا ہے۔

یہ معاملہ تنازعہ کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ چین تائیوان کو اپنا علاقہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ ہارورڈ بیجنگ اکیڈمی کی ڈائریکٹر جینیفر لیو نے کہا کہ بیجنگ سے چینی زبان کا پروگرام واپس لینے کی بنیادی وجہ ادارے کا غیر دوستانہ رویہ ہے۔یہ پروگرام بیجنگ لینگویج اینڈ کلچر یونیورسٹی میں چلایا جاتا تھا۔اب یہ پروگرام تائیوان کی ای وی لیگ امریکن یونیورسٹی میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

لیو نے کہا کہ پچھلے کئی سالوں سے ، ہارورڈ کا پروگرام بیجنگ میں کلاسوں اور ڈورم کے لئے پریشان ہونا پڑ رہا تھا۔ کسی ایک طالب علم کے لیے رہائش کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس پروگرام سے وابستہ طلبا کو ہوٹل میں رکھنا پڑرہا تھا۔ ہارورڈ کرمسن کی رپورٹ کے مطابق جب سے شی جن پنگ اقتدار میں آئے ہیں ، چین میں امریکی اداروں کے تئیں اس کا رویہ بگڑ گیا ہے۔