Pakistan's new ISI chief's appointment to be notified on Oct 20

اسلام آباد: پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید کے درمیان آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کی تقرری پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ پاک فوج نے گزشتہ ہفتے 6 اکتوبر کو اعلان کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو انٹیلی جنس ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس کا نیا سربراہ مقرر کیا تھا۔ حالانکہ وزیر اعظم عمران خان کے دفتر(پی ایم او) نے انجم کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا ہے ، جس کے بعد سے حکومت اور فوج کے درمیان تنازع ہونے کی بات کہی جا رہی ہے۔

اسی دوران معتبر ذرائع سے موصول اطلاع کے مطابق آئی ایس آئی کے نئے ڈائریکٹر جنرل کے نام کا سرکاری طور پر اعلان 20اکتوبر کو کیا جانا متوقع ہے۔لیکن اگر معاملہ بحسن و خوبی اور افہام و تفہیم سے طے نہیں پاتا ہے اور مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے تو پاکستان میں ایک بڑا آئینی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔اس تنازعہ کی گرمی وہاں کی جمہوری حکومت تک پہنچ سکتی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ پاکستانی فوج آئینی دفعات کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری میں قانونی دفعات کا مسلسل ذکر کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی منتخب حکومت اس تنازعہ کی وجہ سے غیر محفوظ ہے اور کیا عمران خان کی وزیراعظم کی کرسی خطرے میں ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران ملک کے اندرونی اور بیرونی مسائل حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

پاکستان میں کورونا وبا سے نمٹنے میں عمران حکومت کی ناکامی کے ساتھ ساتھ کئی وجوہات ہیں جو ان کے گراف کو نیچے گراتی ہیں۔سفارتی محاذ پر وہ مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ پلوامہ دہشت گردانہ حملہ ہو یا دفعہ 370 کا معاملہ ، ہندوستان نے پاکستان کو سفارتی محاذ پر شکست دی ہے۔ عمران کے دور میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کا گراف بہت تیزی سے نیچے گرا۔ وزیر اعظم بننے کے بعد ملک کا معاشی نظام بد سے بدتر ہو گیا ہے۔ بے روزگاری اور مہنگائی اپنے عروج پر ہے۔ یہ فوج کے لیے سازگار صورت حال ہے ، اس لیے یہ قیاس لگانا غلط نہیں ہوگا کہ عمران کو اقتدار سے بے دخل کیا جا سکتا ہے۔آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کے معاملے پر ابتدائی خاموشی کے بعد ، حکومت نے اس ہفتے واضح کیا تھاکہ اہم تقرری کرتے وقت پی ایم خان سے مناسب طریقے سے مشاورت نہیں کی گئی۔ اس ہفتے کے شروع میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ وزیر اعظم کو جاسوس سربراہ مقرر کرنے کا حق ہے اور مشاورت کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور جلد نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے ایک نجی ٹی وی چینل کو بتایا کہ یہ معاملہ ملک کی سویلین اور عسکری قیادت کے درمیان خوش اسلوبی سے حل ہو چکا ہے اور اب (آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری اگلے جمعہ سے پہلے ہو جائے گی۔تاخیر کی وجوہات کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ اس کی وجہ جانتے ہیں لیکن انہیں عام نہیں کر سکتے کیونکہ صرف وزیر اعظم خان ہی لوگوں کو اس معاملے سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ وزیر نے کہا کہ ملک میں سویلین اور فوجی قیادت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے اور دونوں فریق اپنے فیصلے سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے میڈیا رپورٹس اور حکمراں پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے قومی اسمبلی میں چیف وہپ عامر ڈوگر کے اس بیان کو بھی مسترد کر دیا کہ وزیر اعظم خان چاہتے تھے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض پڑوسی افغانستان کی سنگین صورتحال کی وجہ سے کچھ اور زیادہ وقت اپنے عہدے پر برقرار رہیں۔