Leaders, citizens say Khalilzad involved in Afghan collapse

کابل: امریکہ کے سابق ایلچی برائے افغانستان امن زلمے خلیل زاد کے استعفے پر افغان سیاستدانوں اور شہریوں کی جانب سے شدید ردعمل ظاہر کیا جارہا ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو دوحہ معاہدہ اور خلیل زاد کے استعفے دونوں ہی واقعات پر افغانستان میں ملا جلا ردعمل ظاہر کیا جارہا ہے۔کچھ سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ خلیل زاد کا افغانستان میں امن کا مشن نہ صرف ناکام ہو گیا بلکہ کئی مسائل کا باعث بھی بنا ہے۔

سابق انٹیلی جنس سربراہ رحمت اللہ نبیل نے اپنے ٹویٹر پیج پر خلیل زاد کو غدار قرار دیتے ہوئے لکھا ”آخر کار ایک دغا باز شخص افغانستان کو ناقابل واپسی تباہ کن موڑ پر پہنچانے کے بعد منظر سے غائب ہو گیا۔سابق وزیر خارجہ رنگین دادفر سپنتا نے بھی افغانستان کے معاملات میں خلیل زاد کے کردار کو تباہ کن قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹر پیج پر لکھا ، “خلیل زاد نے پنا تباہ کن کردار بڑے شرمناک عمل سے مکمل اپنے اس عمل میں انہیں کچھ مفاد پرست سیاستدانوں اور افراتفری پیدا کرنے والے حلقے کی حمایت اور تعاون حاصل تھا۔ ۔”افغان قومی یکجہتی تحریک کے سربراہ سید اسحاق گیلانی نے کہا کہ طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کر کے خلیل زاد نے افغانستان کو سیاسی اور عسکری بحران میں مبتلا کر دیا۔

ا فغانستان میں تمام نظم و نسق ٹوٹ چکا ہے ، اور اب جب لوگ مصیبت اور بدبختی میں ہیں ، یہ سب خلیل زاد کی حرکتوں کا نتیجہ ہے۔”یونیورسٹی کے ایک لیکچرر پروفیسر شجاع حسن محسنی نے کہا کہ خلیل زاد نے امریکہ کے مفادات میں کام کیا اور دیگر ممالک سے افغانستان کے رشتوں میں دراڑ پیدا کی اور افغانستان میں ا ن کا مشن ناکام ہو گیا۔ دریں اثنا امارت اسلامیہ کا بھی یہ کہنا ہے کہ خلیل زاد نے افغانستان اور افغان عوام کے حق میں کوئی مفید کام نہیں کیا۔امارت اسلامیہ کے ترجمان انعام اللہ سمنگانی نے کہا کہ خلیل زاد اصل میں امریکہ کی جانب سے امریکی احکام پہنچا نے افغانستان آئے تھے اور انہوں نے افغان عوام کے لیے کوئی مفید کام نہیں کیا۔

دریں اثنا ، ملک کے شہری بھی افغانستان میں امن کو جوڑنے میں خلیل زاد کے کردار پر مختلف خیالات رکھتے ہیں۔کابل کے رہائشی نقیب نے کہا ، “خلیل زاد ایک کرپٹ آدمی اور افغانستان کے لوگوں سے غدار ہے۔ اس نے افغانستان کو بحران میں لانے کے لیے اپنے ا ختیارات کا استعمال کیا۔”کابل کے ایک اور رہائشی محمد نقیب نے کہا کہ خلیل زاد کا مشن ناکام تھا اور وہ افغان عوام کے لیے ایک شیطان ہے اور اس کے کام کے نتائج اب ہمارے لوگ دیکھ رہے ہیں۔خلیل زاد اس سے قبل اس وقت کئے صدر جارج ڈبلیو بش کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان امور ، کابل میں امریکی سفیر ، عراق میں امریکی سفیر اور اقوام متحدہ کے امریکی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

زلمے خلیل زاد کو امریکی حکومت نے 2018 میں افغانستان کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی مقرر کیا تھا۔اس نے دوحہ میں طالبان کے نمائندوں کے ساتھ اٹھارہ ماہ کے مذاکرات کے بعد طالبان کے ساتھ مبنی بر امریکی فوجی انخلا امن معاہدہ کیا۔ جس کے تحت امریکہ نے افغانستان سے اپنی افواج کو واپس بلا لیا۔ یاد رہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے کل اعلان کیا تھا کہ خلیل زاد نے استعفیٰ دے دیا ہے اور خلیل زاد کے نائب تھامس وِسٹ کو ان کا جانشین مقرر کیا گیا ہے ۔