Three Taliban fighters, 4 school children wounded in Kabul grenade attack

کابل: سرکاری عہدیداروں کے مطابق بدھ کو صبح سات بجے طالبان کو لے جارہی ایک گاڑی پر بم مارا گیا جس میں 6افراد زخمی ہو گئے ۔ زخمیوں میںدو طالبانی جنگجو اور وہاں سے گذر رہے چار اسکولی بچے شامل ہیں۔طالبان کی وزارت خارجہ کے ترجمان قاری سید خوستی نے اے ایف پی کو بتایا کہ دیہہ مزانگ میں مجاہدین کی ایک گاڑی پر بم سے حملہ ہوا جس میں دو مجاہدین زخمی ہو گئے۔

ایک دوسرے عہدیدار نے بتایا کہ ہماری ابتدائی اطلاعات کے مطابق چار اسکولی بچے بھی زخمی ہو ئے ہیں۔عینی شاہدین نے بتایا کہ یہ دھماکہ صبح8بجے دیہہ مزانگ میں اس وقت ہوا جب وہاں اس وقت خاصی بھیڑ بھاڑ رہتی ہے۔35سالہ امین امانی نام کے ایک چشم دید گواہ نے، جو پیشے کے لحاظ سے مترجم ہے، بتایا کہ وہ اپنی ملازمت پر جا رہا تھا کہ کہ سات بج کر55منٹ پر اس نے سڑک پر ایک زوردار دھماکہ سنا۔

میں نے کار کے شیشے میں زبردست دھواں اٹھتے اور لوگوں کو ادھر ادھر بھاگتے دیکھا۔سوشل میڈیا پر جو تصاویز اپ لوڈ کی گئی ہیں ان میں کابل کی گلیوں میں دھویں کے مرغولے اور ہوا میں دھول اڑتی دکھائی دے رہی ہے۔3اکتوبر کو بھی کابل کی ایک مسجد کے داخلی دروازے پر ایک بم دھماکہ ہوا تھا جس میں کم از کم5افراد ہلاک ہوئے تھے۔