Seven Hong Kong democrats jailed for up to 12 months

ہانگ کانگ: ہانگ کانگ کی ایک ضلع عدالت نے چین کے نئے قومی سلامتی قانون کے خلاف گزشتہ سال کی ریلیوں اور مظاہروں میں کردار ادا کرنے پر سات کارکنوں کو 12 ماہ قید کی سزا سنائی۔ سپوتنک کی ایک رپورٹ کے مطابق ، سول ہیومن رائٹس فرنٹ کے کوآرڈینیٹر فیگو چن ہو وان کو سات کارکنوں میں سب سے زیادہ ہ12 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے ۔سابق قانون ساز وو چی وائی اور سابق ڈسٹرکٹ کونسلر سانگ کن شنگ کو ان کی سماجی حیثیت کو دیکھتے ہوئے 10 ماہ قید کی سزا سنائی گئی جبکہ باقی کو چھ سے آٹھ ماہ جیل میں گزارنا ہوں گے۔واضح ہو کہ چین نے مختلف قوانین بشمول سخت قومی سلامتی کے قانون کے ذریعے ہانگ کانگ پر اپنا کنٹرول مضبوط کیا ہے جس کی وجہ سے نیم خودمختار شہر کے لوگوں کو بڑھتی ہوئی پولیسنگ اور پولس کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔

بیجنگ نے گذشتہ سال 30 جون کو 2019 میں قومی سلامتی کا قانون نافذ کیا تھا جس کے جواب میں حکومت مخالف مظاہروں نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔نئے قانون کے تحت یکم جولائی کو پہلا مکمل دن تھا حالانکہ سول سوسائٹی گروپوں نے جمہوری حقوق سمیت مختلف مسائل کی حمایت کرنے کے لئے مظاہرہ کیاتھا۔ یاد رہے کہ چین کے قومی سلامتی کا قانون منظور ہونے کے ایک دن بعد، ہانگ کانگ پولیس نے جمہوریت کے حامی مارچ میں حصہ لینے پر 370 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا تھا ،۔اس قانون کے تحت قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے ، غیر ملکی افواج سے علیحدگی ، تخریب کاری اور دہشت گردی کے مجرم کو زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

یہ قانون چینی سکیورٹی ایجنسیوں کو ہانگ کانگ میں اپنے دفاتر کھولنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ برطانوی حکومت سے چین کو ہانگ کانگ 1997 میں ایک ملک ، دو نظام کے تحت حوالے کیا تھا۔ اس کے تحت اس علاقے کو اپنے کچھ حقوق بھی مل گئے ہیں۔ اس میں ایک علیحدہ عدلیہ اور شہریوں کے لیے آزادی کا حق شامل ہے۔ یہ انتظام 2047 تک کے لئے ہے۔