Collapse of former govt harmed country: Mujahid

کابل: امارت اسلامیہ کے ترجمان و نائب وزیر برائے اطلاعات و ثقافت ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ سابقہ حکومت کا زوال افغان عوام کے مفاد میں نہیں تھا اور نہ ہی کسی منظم منصوبے کے مطابق وقوع پذیر ہوا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے طلوع نیوز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔ مجاہد نے اس بات پر زور دیا کہ اگر دونوں افغان گروپوں کے درمیان امن مذاکرات جاری رہتے اور ملک میں جنگ کے خاتمے کا باعث بنتے تو حالات موجودہ صورتحال سے بہتر ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی رائے میں مذاکرات نہ ہونے سے افغانستان کو نقصان پہنچا لیکن اگر جنگ رک جاتی اور ہم با معنی مذاکرات کرتے تو صورت حال موجودہ حالات سے بہتر اور کچھ مختلف ہو تی۔ اور اگر ایسا ہوتا تو نہ تو حکومتی ادارے ٹوٹتے اور نہ ہی لوگ افغانستان سے بیرون ملک نقل مکانی کرتے۔ مجاہد نے کابینہ میں ردوبدل کا اعلان بھی کیا۔ لیکن اس بات پر زور دیا کہ ایک جامع حکومت کے قیام کے بہانے اپنے پسندیدہ امیدواروں کو کابینہ میں پہنچانے کی دیگر ممالک کی کوششیں قابل قبول نہیں ہوں گی۔

مجاہد نے کہا کہ ہم بار بار پر اس کا اعادہ کرتے رہے ہیں کہ جامع کی اصطلاح کا مقصد کچھ ایسا ہی ہے۔ اگر مقصد تمام نسلی گروہوں کے لوگوں کو شامل کرنا ہے تو ہم مختلف نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگوں کو پہلے ہی کابینہ میں شامل کر چکے ہیں۔ امارت اسلامیہ کے ترجمان نے مالی امداد بند کر دینے پر امریکہ پر تنقید کی اور کہا کہ وہ دیگر ممالک کو بھی اس کے ذخائر اور اثاثے منجمد کرنے اور نگرااں حکومت کو تسلیم نہ کرنے پر اکسا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امارت اسلامیہ کی کابینہ تشکیل دیے ڈیڑھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن امارت اسلامیہ کے عہدیداروں کی سفارتی کوششوں کے باوجود دنیا کے ممالک نے ابھی تک اسے تسلیم نہیں کیا۔