Iran to host regional meeting on Afghanistan

تہران: ایران بدھ کے روز افغانستان کے چھ پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کرے گا جس میں حکومت افغانستان کے اندر تمام نسلی گروہوں کی شمولیت اور اندرون ملک امن و استحکام پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں اسلامی امارات افغانستان کو مدعو نہیں کیا گیا لیکن اماراتی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ تہران اجلاس کے نتائج افغانستان کے حق میں ہوں گے اور ان سے افغانستان کو فائدہ پہنچے گا۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ اجلاس ہو رہا ہے، یہ اجلاس پڑوسیوں سے متعلق ہے لیکن ہمیں ابھی تک مدعو نہیں کیا گیا ہے۔اجلاس میں پاکستان، چین، تاجکستان، ترکمانستان، ازبکستان اور روس کے وزرا خارجہ اور سیاسی نمائندے ایک جامع قومی حکومت کے قیام اور افغانستان میں جنگ کے خاتمے پر بات کریں گے۔حزب اسلامی کی قیادت کے رکن حفیظ الرحمن نقی نے کہا کہ اجلاس جو پہلے ہوئے اور اب ایران میں ہو رہا ہے بلاشبہ افغانستان کی صورت حال پر ایک مثبت یا منفی اثرات مرتب کرے گا۔کسی بھی صورت میںیہ امید کا ایک دریچہ ہے کہ ایران کے سربراہی اجلاس میں متعدد معاملات زیر بحث رہیں گے اور ان کا تجزیہ کیا جائے گا۔

دریں اثنا گزشتہ روز نگراں وزیر خارجہ امیر خان متقی نے افغانستان میں ایران کے سفیر بہادر امینیان سے ملاقات کی۔ وزارت خارجہ نے بتایا کہ فریقین نے اقتصادی اور سیاسی امور اور ایران میں افغان مہاجرین کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔کابل میں ایرانی سفارت خانے نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جامع حکومت ، امن اور استحکام ، معاشی چیلنجوں کو حل کرنے کی کوششیں اور افغانستان کو دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہ بننے دینے پر اجلاس میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔