Coup in Sudan as military detains PM Abdalla Hamdok

خرطوم :(اے یو ایس )سوڈانی وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کے دفتر کے ڈائریکٹر آدم حریکہ نے تصدیق کر دی ہے کہ سوڈان میں فوجی بغاوت کے بعد وزیراعظم کو گھر میں نظر بند کردیا گیا ہے یا پھر عسکری فورس نے انہیں کسی نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔تاہم میڈیا رپورٹوں کے مطابق سوڈان کی وزارت اطلاعات نے فوج کی جانب سے وزیراعظم عبداللہ حمدوک کو نظر بند کرکے نامعلوم مقام پر رکھے جانے کی تصدیق کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا کہ فوج نے کابینہ کے متعدد ارکان، خرطوم کے گورنر اور دیگر حکام بشمو ل وز یراعظم کے میڈیا ایڈوائزر، ملک کی سلامتی کونسل کے ترجمان اور دیگرحکام کو گرفتار کر لیا ہے۔

فوجی بغاوت کے بعد ملک کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات بھی معطل کر دی گئی ہیں۔ فوج نے شہریوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی ہے لیکن بعض شہروں میں عوام کی بڑی تعداد نے فوجی بغاوت کے خلاف قومی پرچم کے ساتھ احتجاج کیا جب کہ دارالحکومت خرطوم میں احتجاجی مظاہرین نے ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کردیں۔العربیہ نیوز چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے حمدوک کے دفتر کے ڈائریکٹر آدم حریکہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے آج صبح وزیر اعظم کی رہائش گاہ کا دورہ کیا تھا۔ آدم کو وہاں یہ علم ہوا کہ وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو کسی نا معلوم مقام لے منتقل کیا گیا ہے۔ البتہ عسکری انقلاب تسلیم کرنے کے لیے حمدوک پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا۔آدم کے نزدیک عسکری جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے بحرانات سے فائدہ اٹھایا گیا۔

اس کھیل کی قیادت عبوری کونسل کے فوجی سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان کر رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اتوار کے روز عبوری کونسل کے سربراہ کے ساتھ ملاقات میں وزیر اعظم نے حکومت تحلیل کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔وزیر اعظم کے دفتر کے ڈائریکٹر کے مطابق عسکری ادارہ اقتدار حوالے کرنے کے سلسلے میں اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں چاہتا ہے۔ ادارے نے متعدد سویلین نمائندوں کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر دیا۔آدم نے بتایا کہ اتوار کی ملاقات میں عبوری کونسل کے فوجی سربراہ بعض سیاست دانوں کی جانب سے فوج پر تنقید کے سبب غصے میں تھے۔یاد رہے کہ العربیہ اور الحدث چینلوں کی نامہ نگار کے مطابق آج صبح وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کی حکومت کے متعدد وزرائ کو گرفتار کر لیا گیا۔ ایک نامعلوم عسکری فورس نے چار وزرا کے علاوہ خود مختار کونسل کے شہری رکن محمد الفکی کو بھی حراست میں لے لیا۔

واضح رہے کہ تازہ ترین گرفتاریاں وزیر اعظم عبداللہ حمدوک اور عبدالفتاح البرہان کے درمیان ملاقات کے بعد سامنے آئی ہیں۔ ملاقات میں براعظم افریقہ کے لیے امریکی ایلچی جیفری ویلٹمین کی تجاویز زیر بحث آئیں۔یاد رہے کہ گذشتہ ماہ ستمبر میں انقلاب کی ناکام کوشش کے بعد سے حکومت میں شامل شہری اور عسکری حکام کے بیچ تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔دریں اثنا سوڈانی فوج کے ایک جنرل حنفی عبداللہ نے کہا ہے کہ پیر کے روز کی جا نے والی گرفتاریاں ملک میں جمہوریت کا راستہ درست کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔ یہ بیان عبداللہ حمدوک کی حکومت کے گرفتار وزرا اور ذمے داران کی فہرست میں اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔العربیہ نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں حنفی نے باور کرایا کہ ایک سویلین حکومت تشکیل دی جائے گی جس میں آزاد اور شفاف اہلیت کے حامل افراد شامل ہوں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عسکری اقدامات اور گرفتاریوں میں ان لوگوں کو نشانہ بنایا گیا جو آئینی دستاویز پر عمل درامد میں رکاوٹ بن رہے تھے۔