Turkey diplomatic crisis deepens

استنبول:(اے یو ایس ) ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کے امریکہ سمیت 10 ممالک کے سفیروں کو ملک بدر کرنے کے مطالبے کے بعد ملک کو سفارتی پسپائی کا سامنا ہے اور اس کی مغربی اتحادیوں سے دوری نیز ملک کی کعاشی صورت حال کی بدحالی کو مزید بڑھ سکتی ہے۔رجب طیب اردغان نے سول سوسائٹی کے رہنما اور سماجی و فلاحی کارکن عثمان کوالہ کی جیل سے رہائی کے مطالبے پر امریکی سفیر ڈیوڈ ایم سٹرفیلڈ سمیت 10 سفیروں کو پرسونا نان گراٹا (ناپسندیدہ شخص) قرار دینے کا حکم دیا تھا۔پرسونا نان گراٹا ایک سفارتی اصطلاح ہے جو کسی شخص کو ملک بدر کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

وائس آف امریکہ کے لیے ڈیرین جونز کی رپورٹ کے مطابق ترک صدر کے اس بیان پر نیدرلینڈز، ڈنمارک اور ناروے نے اپنے بیانات میں کہا کہ وہ ترکی میں انسانی حقوق کے دفاع کے لیے اب بھی پ±رعزم ہیں جب کہ امریکہ اور جرمنی نے کہا ہے کہ انہوں نے اس بیان پر وضاحت مانگی ہے۔ اردغان نے ترکی کے سماجی و فلاحی کارکن عثمان کوالہ کی رہائی کے مطالبے پر سفیروں کے ایک غیرمعمولی بیان کی مذمت کی تھی اور انہوں نے اسے ترکی کے معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا۔خیال رہے کہ 18 اکتوبر کو کینیڈا، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، ناروے، سویڈن، فن لینڈ، نیوزی لینڈ اور امریکہ کے سفرا نے ایک مشترکہ بیان میں کوالہ کے کیس کی فوری اور درست حل اور ”فوری رہائی” کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں ترکی کی وزارتِ خارجہ نے ان سفرا کو وزارتِ خارجہ طلب کیا تھا۔

ترک صدر نے کہا تھا کہ ”انہیں ترکی کو جاننا اور سمجھنا ہو گا۔ جس دن وہ ترکی کو نہیں جانیں اور سمجھیں گے، وہ چلے جائیں گے۔”عثمان کوالہ گزشتہ چار برس سے قید میں ہیں۔ ان پر 2013 میں ملک گیر مظاہروں کی مالی مدد کرنے اور ترکی میں 2016 کی ناکام فوجی بغاوت میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ کوالہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ترکی کے صدر کا دعویٰ ہے کہ وہ ترکی کی آزادی کا دفاع کر رہے ہیں، کچھ مبصرین کے خیال میں ایک مو¿قف یہ ہے کہ وہ قوم پرست ووٹنگ کی بنیاد کا اچھا کھیل کھیلتے ہیں۔’دوار نیوز’ پورٹل کے سیاسی کالم نگار الہان ازگیل کہتے ہیں کہ اردغان عوام کی توجہ کرنسی کی گرتی ہوئی قدر اور بڑھتے ہوئے معاشی بحران سے ہٹانے کے لیے سخت سفارت کاری کا استعمال کر سکتے ہیں۔

ان کے بقول ”وہ اپوزیشن پر الزام لگا سکتے ہیں کہ وہ انہیں گرانے کے لیے غیر ملکی طاقتوں اور سی آئی اے اور واشنگٹن کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔”دوسری جانب ان 10 سفیروں میں سے اب تک کسی کو باضابطہ طور پر پرسونا نان گراٹا قرار دیے جانے کا نوٹی فکیشن نہیں ملا ہے۔مبصرین کہتے ہیں کہ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا اردغان سفارتی ملک بدری کے لیے تیار ہیں۔ کیوں کہ یہ اقدام ملک کی معاشی صورتِ حال اور ترکی کی روایتی مغربی اتحادیوں سے تنہائی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔