Acute shortage of gas in Pakistan feared during winter season

اسلام آباد: مہنگائی کے شکار پاکستان پر توانائی کا بحران ایک بار پھر گہرا ہونے کا خدشہ ہے.میڈیا رپورٹ کے مطابق تاریخی سطح پر گیس بحران سے دوچار عمران خان حکومت کے باعث پاکستان میں گیس کی قلت ہونے والی ہے گزشتہ ماہ پیش کیے گئے ٹینڈر کے جواب میں ایل این جی ٹریڈنگ کمپنیوں کو راغب کرنے میں پاکستان کی ناکامی نے ملک میں گیس کا بہت بڑا بحران پیدا کر دیا ہے اور آنے والے مہینوں میں ملک کو گیس کے غیر معمولی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔خیال کیا جاتا ہے کہ گیس کے ذخائر میں کمی اور عمران خان حکومت کی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی وافر مقدار میں خریداری میں ناکامی کی وجہ سے پاکستان گیس اور راشن کی شدید قلت کے دہانے پر ہے۔

دی ٹربیون کے مطابق، تقریبا دو تہائی گیس ملک میں بجلی کی پیداوار فوسل فیول پر مبنی ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستان کی توانائی کی پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ اخبار نے اطلاع دی ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں گزشتہ تین سالوں میں سب سے زیادہ اضافہ 86 امریکی ڈالر فی بیرل ہے۔ ایل این جی کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کا بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ;اس موسم سرما میں پاکستان اپنے تیسرے شدید موسم سرما میں توانائی کے بحران کا سامنا کرنے جا رہا ہے۔

دی نیوز انٹرنیشنل نے بتایاہے کہ پاکستان دسمبر اور جنوری میں 1.2بی سی ایف ڈی بلین کیوبک فٹ یومیہ( ایل این جی درآمد نہیں کر سکے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے بجائے ملک ہر ماہ صرف 900 ایم ایم سی ایف ڈی درآمد کر سکے گا، جس میں 300 ( ایم ایم سی ایف ڈی ملین کیوبک فٹ فی دن) کی کمی ہوگی۔ میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان کو ایل این جی کارگو کے حوالے سے لیکویفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) ٹریڈنگ کمپنیوں کی جانب سے کوئی جواب نہ ملتا تو ایسا بحران آتا ہے۔