Around 50,000 traders lose jobs due to closure of Chaman crossing

اسلام آباد: پاکستان- افغانستان سرحد پر چمن بارڈر کراسنگ کی بندش کے باعث تقریبا 50 ہزار چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجر اپنے کاروبار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق چمن چیمبر آف کامرس کے سابق صدر جمال الدین اچکزئی کا کہنا تھا کہ کراسنگ بند ہونے سے مقامی تاجروں کو روزانہ 10 کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

چمن پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2 اہم سرحدی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جس میں دوسرا شمال میں طورخم کے ساتھ لگتا ہے۔ایکسپریس ٹربیون کی رپورٹ کے مطابق سرحد کی بندش کے نتیجے میں 1450 پاکستانی ٹرک (کچھ خشک میوہ جات سے بھرے جبکہ کچھ خالی) سرحد کی دوسری جانب کھڑے ہیں۔ اس دوران سرحد کے اس جانب پاکستانی ٹرک بھی کھڑے ہیں جبکہ ان ٹرکوں کے عملے کو کہیں نہیں جاناہے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کچھ کے پاس خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔چمن چیمبر کے ایک اور سابق چیئرمین حاجی جلات خان نے وفاقی حکومت سے سرحد کو فوری طور پر کھولنے کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا۔

افغانستان اور پاکستان میں دو سرحدی گزرگاہیں طورخم اور چمن کو اگست میں طالبان کے کنٹرول میں آنے کے بعد سے بند کر دی گئیںہیں۔ تاجروں نے چمن کراسنگ کی بندش کا ذمہ دار طالبان کو ٹھہرایا ہے، حالانکہ ابھی تک اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔