China removes minarets, domes, Islamic symbols from mosques

بیجنگ: چین کی داداگری جہاں پوری دنیا کے لیے سر دردبنی ہوئی ہے وہیں ملک کے مسلمان اور اقلیتیں ڈریگن کے مظالم سے تنگ آچکی ہیں۔ چین نے صدر شی جن پنگ کے دور میں نسلی اقلیتوں کی چینی کاری میں تیزی لائی ہے چین مسلمانوں پر ظلم و ستم جاری رکھے ہوئے ہے اور ان کے نام ونشان مٹانے پر تلا ہوا ہے۔ چین نے مسلمانوں کی ثقافتی شناخت کو تباہ کرنے کی مہم تیز کر دی ہے اور مساجد سے گنبد اور مینار ہٹا رہا ہے۔ چین نے یہ حکمت عملی براہ راست سوویت یونین سے لی ہے اور نسلی اقلیتوں کو بہت کم ثقافتی خود مختاری دی ہے۔اب شی کی قیادت میں ملک کے مسلمانوں کو چینی بنایا جا رہا ہے۔

اسی کا نتیجہ ہے کہ اب چینی مسلمانوں نے چین میں رائج عبادات کے تصور کو اپنے مسلم رسم و رواج میں شامل کر لیا ہے۔ سنکیانگ صوبے کی سینکڑوں سال پرانی مسجد ڈونگ گوان چینی جبر کا تازہ ترین شکارہوئی ہے۔ یہی نہیں صوبہ سنکیانگ کے علاقے آتوش میں ایک مسجد کے انہدام کے بعد اس کی جگہ پبلک ٹوائلٹ کھول دیا گیا ہے۔ چینی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مساجد کو چینی بنانا چاہتی ہے تاکہ وہ بیجنگ کے تیانمن چوک کی طرح دکھائی دے۔ یہی نہیں، مقامی لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گنبدوں کو توڑنے کے بارے بات نہ کریں۔این پی آر کی رپورٹ کے مطابق چین پورے ملک میں ہزاروں کی تعداد میں مساجد سے میناروں اور گنبدوں کو ختم کرنے میں مصروف ہے۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ گنبد اور مینار غیر ملکی مذہبی اثر و رسوخ کی علامت ہیں۔ اس لیے وہ مسلمانوں کو مزید روایتی چینی مسلمان بنانے کے لیے اسے منہدم کر رہے ہیں۔ چین نے یہ مہم ایک ایسے وقت میں تیز کی ہے جب ملک میں اسلام فوبیا بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور مذہبی پابندیوں کا دائرہ مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔چین چاہتا ہے کہ مسلمان چین کی کمیونسٹ پارٹی کی اقدار کو اپنے مذہبی اصولوں میں نافذ کریں۔تاریخی ماہر ما ہائیون نے کہا کہ چینی بائیں بازو اب ثقافتی طور پر چین پر حکومت کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے تحت یہاں کے حکام سعودی یا عربی اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے مساجد سے گنبد گرا رہے ہیں۔

چین کی نئی پالیسی کے تحت سال 2016 میں ایک مہم شروع کی گئی تھی۔ اس کے تحت آتوش کے سنگاگ گاو¿ں میں دو مساجد کو منہدم کر دیا گیا۔ ان میں سے ایک توکل مسجد تھی۔ ریڈیو فری ایشیا کے مطابق ایک مقامی اہلکار نے بتایا ہے کہ اس کی جگہ ایک پبلک ٹوائلٹ بنایا گیا ہے۔ نیوز پورٹل نے بتایا کہ ایک اویغور اہلکار نے بتایا کہ توکل مسجد کو 2018 میں منہدم کر دیا گیا تھا اور ہان ساتھیوں نے اس کی جگہ ایک بیت الخلا بنایا تھا۔