No dialogue with Pakistan on Kashmir, government to talk to Kashmiris: Amit Shah

سرینگر :مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جموں و کشمیر میں سرحد پار سے دخل اور اس سے ہمدردی رکھنے والوں کیخلاف سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ سرکار پاکستان کے بجائے وادی کے لوگوں سے بات کرے گی اور ان کے مسائل سنے گی۔شاہ نے جموں و کشمیر کی ترقی کیلئے مودی سرکار کی حد بندی کو دوہراتے ہوئے کہا کہ کشمیرمیں امن چین میں خلل ڈالنے والوں سے سختی سے نپٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ کی موجودہ حکومت نے کرپشن ختم کرنے کیلئے انتظامیہ میں ردو بدل کیا ہے اور آج لوگوں کو کسان سمان اور غریبوں کو پنشن جیسی یوجناؤں کا پیسہ سیدھا ان کے کھاتے میں پہنچ رہا ہے۔شاہ تین دن کی جموں و کشمیر یاترا کے آخری دن سری نگر کے شیر کشمیر اسٹیڈیم میں سرپنچوں کے اجلاس کو خطاب کر رہے تھے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ میں کشمیر کے لوگوں سے بات کرنے آیا ہوں میں یہاں کے نوجوانوں کے ساتھ دوستی چاہتا ہوں ‘ انہوں نے کہا کہ وادی کے لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے ہماری سرکار کی کوشش ہے کہ کشمیر کی ترقی دیش کے دیگر حصوں سے زیادہ ہو ۔مودی سرکار نے جموں و کشمیر میں جمہوریت کو گاو¿ں گاو¿ں تک پہنچایا ہے۔ پنچایت کے چنا ؤمیں بڑی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 70 سال تک یہاں جمہوریت کو روکا گیا -اب پہلی بار یہاں لوگوں کو آئین کا پورا فائدہ مل رہا ہے۔ پہاڑی بھائیوں کو پہلی بار ریزرویشن کا فائدہ حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے وادی کے لوگوں سے گمراہ نہ ہونے اور پتھربازی کا دور پھر نہ آنے دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ بھی اپنے دل سے خوف نکال دیجئے۔ امت شاہ نے کہا فاروق عبداللہ صاحب پاکستان سے بات کرنے کی صلاح دیتے ہیں۔ میں وادی کے لوگوں سے بات کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں پاکستان سے بات کرو۔ حریت سے بات کرواور ایسا کرکے انہوں نے جموں و کشمیر میں سیاحت کو ختم کردیا۔وزیر داخلہ نے سوال کیا کہ اس طرح کی باتیں کرنے والوں کا مقصد کیا ہے۔ انہوں نے جلسے میں اپنی سکیورٹی کیلئے بنائے گئے بلٹ پروف گھیرے کو ہٹوا دیا تھا اور انہوں نے کہا میں آپ لوگوں کے بیچ میں بنا بلٹ پروف کور کے آیا ہوں۔ میں وادی کے نوجوانوں سے دوستی چاہتا ہوں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ہر گھر میں بجلی و پانی پہنچانے کا ہدف پورا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سرکار کی کوشش ہے کہ 2022 تک جموں و کشمیر میں نل سے پانی کی سہولت مہیا کرا دی جائے۔ گھرگھر ٹائیلٹ ، گیس سلینڈر، نل کا پانی اور بجلی پہنچانے کا کام جموں کشمیر میں تیزی سے چل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے یہاں برسر اقتدار لوگ سال میں 6-6 ماہ لندن میں گذارتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ ان کا اشارہ سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کی طرف تھا۔ انہوں نے اسی سلسلے میں کہا کہ کل کروا چوتھ کے دن بھی منوج بھائی ( منوج سنہا، گورنر ریاست) اپنے کام میں لگے ہوئے تھے۔