Afghan girls call for reopening of schools

کابل: افغانستان میںنئی حکومت بنے دو ماہ سے زیادہ وقت گذر چکا ہے اس کے باوجود ابھی تک افغانستان کے بیشتر صوبوں میں چھٹی جماعت سے لے کر بارہویں جماعت کی طالبات کو اسکول جانے سے روکا جا رہا ہے۔طالبات نے نئی افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پورے ملک میں لڑکیوں کے ا سکولوں کو کھول دے۔آخری سال کی طالبہ مریم نے طلوع نیوز کو بتایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لیے قانون کے مطابق ا سکول کھولے جائیں تاکہ ہم تعلیم حاصل کر سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اسکولوں کے کھلنے میں آئے روز تاخیر طلبا کے لیے نقصان دہ ہوگی۔ مریم نے مزید کہا کہ ہم دو ماہ سے زیادہ عرصے سے اسکول نہیں گئے اور ہمیں برا لگتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ تمام لڑکیاں جنہوں نے اسکول چھوڑ دیا ہے، ایسا ہی محسوس کرتی ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اس وقت چالیس لاکھ سے زائد طلبا اسکولوں سے باہر ہیں۔دریں اثنا، قندھار کے متعدد رہائشی صوبے میں سابق حکومت اور امارت اسلامیہ کے درمیان لڑائی میں تباہ ہونے والے اسکولوں کی تعمیر نو کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

قندھار کے رہائشی جہاں صوبے کے شہر اور اضلاع میں درجنوں سکول تباہ ہو چکے ہیں اور ہزاروں لوگ تعلیم سے محروم ہیں۔قندھار کے محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ قندھار میں اسکولوں کی تعمیر نو کے منصوبے پر کام جاری ہے۔صوبہ قندھار کے ارغنداب ضلع کے بابر گاو¿ں میں غازی محمد اکبر خانہ ا سکول قندھار میں جنگ کی تباہ کاریوں کی ایک مثال ہے۔اسکول کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ سابق فوجی دستوں اور امارت اسلامیہ کے درمیان حالیہ لڑائیوں میں اسکول کو تباہ کیا گیا ہے ۔