Anti-terror operations in J&K's Poonch enter day 18

سرینگر:(اے یو ایس )پونچھ کے مینڈھرجنگلات میں کنٹرول لائن (ایل او سی) کے نزدیک سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان گذشتہ 18دنوں سے جاری تصادم آرائی کے بیچ مزید تین مقامی لوگوں کی دہشت گردوں کو پناہ فراہم کرنے کے الزام میں گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مینڈھر کے نار خاص جنگلوں میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان جاری تصادم آرائی کے بیچ مزید تین مقامی لوگوں جن میں دو بھائی بھی شامل ہیں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

گرفتار شدہ تین مقامی لوگوں کی شناخت محمد عارف و محمد طارق پسران محمد راشد اور واحد اقبال ولد محمد خورشید ساکنان بھٹہ دوریان کے بطور ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان تین لوگوں کی گرفتاری کے ساتھ اس سلسلے میں اب تک کل ملا کر 20 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں کچھ خواتین بھی شامل ہیں۔ واضح ہو کہ اس آپریشن کے دوران اب تک دو جے سی اوز سمیت9 فوجی جوان جان بحق جبکہ دو پولیس اہلکار اور ایک فوجی جوان زخمی ہو ئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آپریشن میں پانچ سے آٹھ بھاری ہتھیاروں سے لیس جنگجو پھنسے ہوئے ہیں۔ ان دہشت گردوں کی تلاش کے لئے فوج، پولیس اور پیر ملٹری فورسز اور پیر کمانڈوز کی طرف سے بڑے پیمانے پر آپریشن جاری ہے اور ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔

دریں اثنا یک جٹ جموں کے چیئرمین انکور شرما نے گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ یہ تصادم پونچھ کے اقلیتوں کے لئے ایک سیکورٹی خطرہ بن گیا ہے اور وہ ڈر محسوس کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’حکومت کو واضح کرنا چاہئے کہ کہیں پونچھ میں بھی کرگل جیسی صورتحال تو نہیں بنی ہوئی ۔