Muttaqi seeks int’l community’s support for sanction-removal

کابل: قائم مقام وزیر خارجہ عامر خان متقی نے بین الاقوامی برادری سے پر زور اپیل کی کہ وہ امریکہ کو تلقین کرے کہ وہ موجودہ افغان حکومت پر عائد پابندیاں اٹھا لے اور اس کے منجمد اثاثہ جات جاری کر دے۔انہوں نے یہ اپیل قطر کے دارالخلافہ دوحہ میں 14 ممالک کے سفیروں اور سیاسی نمائندوں سے ملاقات کے دوران کی۔ان نمائندوں میں سے زیادہ تر کا تعلق یورپی ممالک سے ہے۔

ملاقات کے دوران متقی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو آزاد کرانے میں امارت اسلامیہ کے ساتھ تعاون کرے۔وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے اپنے ٹویٹر اکاو¿نٹ پر لکھا کہ متقی نے کہا کہ افغانستان میں 40 سال بعد ایک بااختیار ، طاقتور اور غالب حکومت ہے، اس لیے عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ امریکہ سے افغان عوام کی قومی دولت پر عائد پابندیاں ہٹانے کے لیے کہے”۔

امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مسٹر متقی کے حوالے سے کہا کہ نئی افغان حکومت نے ایک ذمہ دار حکومت کے طور پر تمام شرائط پوری کی ہیں اور اب اسے تسلیم کر لیا جانا چاہئے۔ 14 ممالک کے سفیروں اور نمائندوں سے ملاقات سے قبل متقی نے دوحہ میں افغانستان میں جرمنی کے سفیر مارکس پوتزل سے الگ الگ ملاقات کی۔مسٹر پوتزل نے وفد کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں کہا کہ ہم نے افغانستان میں انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے جاری کوششوں کے بارے میں بات کی۔انہوں نے مزید کہا کہ “میں نے انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین کے حقوق، محفوظ انخلا ، نقل و حرکت کی آزادی (شہری) اور انسانی امداد تک رسائی کی اہمیت پر زور دیا۔