China makes billions from Uyghurs' black market organ trade

بیجنگ: یوں تو اویغوروں پر چین کے مظالم سے پوری دنیا واقف ہے۔ لیکن چین اس حد تک پستی میں گر جائے گا اس کا انکشاف اس وقت ہوا جب اویغوروں پر اس کے مظالم کی ایک اور پرت کھلی کہ وہ زندہ اویغوروں کے فعال اعضا نکال کر اسے بین الاقوامی منڈی میں فروخت کر رہا ہے ۔ ایک تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چینی حکومت سنکیانگ میں انسانی اعضا کی بلیک مارکیٹنگ کرکے اربوں ڈالر کما رہی ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین میں 15 لاکھ اویغوروں کو جیلوں میں رکھا گیا ہے۔ جہاں سے ان کے اعضا نکالے جا رہے ہیں۔ نیز ان کی نس بندی کی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین زندہ لوگوں کے گردے، جگر اور نا معلوم کیا کیا عضو نکال کر فروخت کر رہا ہے اور اربوں ڈالر کما رہا ہے۔دعویٰ کیا گیا تھا کہ چین نے انسانی اعضا کی بلیک مارکیٹنگ سے کم از کم ایک ارب ڈالر کمائے ہیں، رپورٹ کے مطابق انسان کا ایک صحت مند عضو 1.60 لاکھ ڈالر تک فروخت ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے کہا کہ انہیں قابل اعتماد ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نسلی، لسانی یا مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو ان کی رضامندی کے بغیر خون کے ٹیسٹ، الٹراساؤنڈ یا ایکسرے کیے جا رہے ہیں۔ جبکہ دوسرے قیدیوں کے ساتھ ایسا نہیں کیا جاتا۔اویغور قیدیوں کے معائنے کے بعد ان کے اعضا کو ایک ڈیٹا بیس میں ریکارڈ کیا جاتا ہے جہاں ان کی مبینہ طور پر بلیک مارکیٹنگ کی جاتی ہے۔ہیرالڈ سن کی ایک رپورٹ کے مطابق 2017 سے 2019 کے درمیان تقریبا 80,000 اویغور مسلمانوں کو اسمگل کیا گیا۔