Pakistan quietly allows Taliban-appointed ‘diplomats’ to take charge of Afghan missions

اسلام آباد: اگرچہ افغانستان میں طالبان کو قابض ہوئے تقریبا ڈھائی ماہ ہوچکے ہیں اور دنیا کے کسی بھی ملک بشمول پاکستان نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی کرنا چاہتا ہے پھر بھی پاکستان نے طالبان کے سفارت کاروں کو افغان سفارتی دفاتر سے کام کرنے کی اجازت دے دی اور طالبان حکومت کے سفارت کاروں نے اسلام آباد پہنچ کر کام کاج شروع بھی کردیا ۔یہ رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے طالبان کی حکومت کو اندر ہی اندر تسلیم کر لیا ہے۔ دو طالبان حکام اور دو افغان سفارت کاروں نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ طالبان کی جانب سے تعینات کیے گئے سفارت کار اسلام آباد میں افغان سفارت خانے پہنچ گئے ہیں اور وہاں کام شروع کر دیا ہے، اس کے ساتھ ہی پاکستان کے مختلف شہروں میں قائم قونصل خانوں میں بھی کام شروع ہو چکا ہے ۔

قبل ازیں طالبان حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کی نقل اسلام آباد میں افغان سفارت خانے پہنچ گئی تھی۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان سفارت کاروں کو کام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے، حالانکہ طالبان کی حکومت کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔اگرچہ عمران خان حکومت نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے تاہم کابل میں پاکستان کے سفیر منصور خان نے تصدیق کی ہے کہ افغان حکام کو پاکستانی سفارت خانے میں کام کرنے کے لیے ویزے دیے گئے ہیں۔ انہیں اس کام میں سہولتیں بہم پہنچانے کہا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ویزا جاری کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کر لیا ہے۔ یہ ایک سفر کی سہولت ہے۔

قابل ذکر ہے کہ حکومت پاکستان افغانستان کی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے تاہم ابھی تک چونکہ کسی ملک نے تسلیم کرنے کا اعلان نہیں کیا اس لیے مصلحتاً پاکستان بھی خاموش ہے۔ ملیج داو¿د جو سابق افغان صدر اشرف غنی کے چیف آف اسٹاف تھے، نے کہا ہے کہ طالبان کی حکومت دو سال سے زیادہ نہیں چلے گی۔ کیونکہ اب سے ملک پر ان کی گرفت کمزور پڑنے لگی ہے۔ یہ بات انہوں نے ایک یورپی تنظیم کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔