Setting minimum age for girls' marriage not against Islam :Top Islamic Court of Pakistan

اسلام آباد: پاکستان کی اعلیٰ اسلامی عدالت نے فیصلہ سنایاہے کہ لڑکیوں کی شادی کے لیے کم از کم عمر کی حد مقرر کرنا اسلام کی تعلیمات کے خلاف نہیں ہے۔ اس نے ایک عرضی کو خارج کر دیا جس میںبچپن کی شادی کی روک تھام کے قانون کے بعض حصوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اس فیصلے سے کم عمر کی شادی پر تنازعہ طے ہو سکتا ہے، جو بنیاد پرست مسلمانوں کے اس اصرار سے پیدا ہوتا ہے کہ اسلام نے شادی کے لیے کوئی عمر طے کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ جمعرات کو چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی کی سربراہی میں وفاقی شرعی عدالت(ایف ایس سی) کے تین رکنی بینچ نے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ(سی ایم آر اے) 1929 کی بعض دفعات کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت کی۔ڈان اخبار کی خبر میں کہا گیا ہے کہ کہ ایف ایس سی نے درخواست کو مسترد کر دیا اور واضح طور پر اعلان کیا کہ اسلامک اسٹیٹ کی طرف سے لڑکیوں کی شادی کے لیے عمر کی کم از کم کوئی حد مقرر کرنا اسلام کے خلاف نہیں ہے۔

جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور کی طرف سے لکھے گئے فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست کا جائزہ لینے کے بعد، ہمارا خیال ہے کہ درخواست غلط ہے، اس لیے اسے خارج کیا جاتا ہے۔ دس صفحات پر مشتمل فیصلے میں ایف ایس سی نے کہا کہ شادی کے لئے لڑکیوںاور لڑکوں دونوں کے لیے ایکٹ کے ذریعے مقرر کردہ کم از کم عمر کی حد غیر اسلامی نہیں ہے۔سی ایم آر اے کے سیکشن 4 میں کم عمری کی شادی کے لیے ایک سادہ قید کی سزا ہے جس کی معیاد چھ ماہ تک بڑھ سکتی ہے اور 50,000 پاکستانی روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔ جبکہ سیکشن 5 اور 6 میںبچے کا نکاح کرنے اور بچوں کی شادی کی اجازت دینے یا اسے فروغ دینے کی سزا کی وضاحت کی گئی ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تعلیم کی اہمیت خود وضاحتی ہے اور تعلیم کی ضرورت سب کے لیے یکساں طور پر اہم ہے۔ چاہے وہ کسی بھی لنگ کا ہو۔

فیصلے میں کہا گیا ہے اسی لیے اسلام میں ہر مسلمان پر تعلیم حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صحت مند شادی کے لیے نہ صرف جسم صحت مند اور معاشی استحکام ضروری عوامل ہیں لیکن ذہنی صحت اور فکری نشوونما بھی یکساں اہم ہیں۔ جو کہ تعلیم کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ تعلیم خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ یہ کسی فرد اور اس کے نتیجے میں کسی بھی قوم کی آنے والی نسل کی ترقی کی کلید ہے۔ خبر کے مطابق اردن، ملیشیا، مصر اور تیونس جیسے کئی اسلامی ممالک ہیں جہاں مرد اور خواتین کی شادی کے لئے کم از کم عمر مقرر ہے۔