Taliban killed 13 to silence music at a wedding party in Nangarhar: Afghanistan's ex-VP Amrullah Saleh

کابل:سرکاری عہدیداروں کے مطابق مشرقی افغانستان میں ایک شادی کی تقریب میں حملہ کرنے والے3 افراد نے خود کو طالبان کے فرستادہ ظاہر کر کے ر وہاں چلنے والی موسیقی کو بند کرنے کا کہا۔ اس دوران حملہ آوروں کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ میں کم ازکم3افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب افغانستان کے مفرور سابق نائب صدر امراللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ، اس حملے میں جو طالبان کے انتہاپسندوں نے کیا کم از کم13افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔

اس روشنی میں انہوں نے پانے ٹوئیٹ میں مزید لکھا کہ محض مذمت کافی نہیں ہے بلکہ مزاحمت اور اس قسم کی کارروائیوں کے خلاف آواز بلند کرنا وقت کا تقاضہ اور قومی فریضہ ہے۔انوہں نے اس مبینہ خوزنریزی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹہرایا۔ اس واردات پر تبصرہ کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان نے کہا کہ تین حملہ آوروں میں سے دو کو گرفتار کر لیا گیا ہے لیکن انھوں نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ انھوں نے ایسا نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے کہنے پر کیا تھا۔خیال رہے کہ افغانستان میں 1996 سے 2001 تک طالبان کے پہلے دور کے دوران موسیقی پر پابندی عائد تھی۔

اس موقع پر موجود ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جمعہ کو صوبہ ننگر ہار کے سرخ راڈ ڈسٹرکٹ میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں چار جوڑوں کی شادی ہو رہی تھی۔انھوں نے طالبان کے مقامی رہنما سے ریکارڈنگ کی صورت میں موجود میوزک کو چلانے کی اجازت لی تھی اور وہاں صرف خواتین موجود تھیں ،لیکن رات گئے وہاں اسلحہ بردار افراد زبردستی گھس آئے اور لاو¿ڈ سپیکر توڑنے کی کوشش کی۔ لیکن جب وہاں موجود مہمانوں نے مزاحمت کی تو انھوں نے ان پر فائرنگ کر دی۔