Blinken meets Chinese foreign minister , raises concerns about Taiwan

واشنگٹن:(اے یو ایس ) امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے تائیوان سمیت دیگر معاملات پر چین کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا۔ امریکی عہدیداروں کے مطابق بلنکن نے ان تحفظات کا اظہار اپنے چینی ہم منصب وینگ یی سے ملاقات کر کے جسے کافی اہم قرار دیا جارہا ہے کیا ۔اتوار کو روم میں جی 20 ممالک کے اجلاس کے دوران دونوں وزرائے خارجہ کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب تائیوان اور دیگر عالمی معاملات پر دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے سینئر اہل کاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کو بتایا کہ لگ بھگ ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات تعمیری اور نتیجہ خیز تھی جس میں امریکی وزیرِ خارجہ نے کھل کر اپنے خدشات سے چینی ہم منصب کو آگاہ کیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے چین اور امریکہ کے اس اعلیٰ سطحی رابطے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست رابطوں کو وسعت دینا جب کہ رواں برس کے اواخر میں دونوں ممالک کے صدور کی ورچوئل ملاقات پر بھی تبادلہ خیال کرنا تھا۔ملاقات کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ چین نے تائیوان کے معاملے پر کشیدگی کو ہوا دی ہے حالانکہ امریکہ ’ون چائنا پالیسی‘کے ساتھ ساتھ تائیوان کے ساتھ غیر سفارتی اور دفاعی تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے۔خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز پر چین کے قومی دن کے موقع پر چین کے 149 لڑاکا طیاروں نے تائیوان کی فضائی حدود میں پروازیں کی تھیں جس سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔امریکی صدر جو بائیڈن نے چین کے اس اقدام پر خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو امریکہ تائیوان کو اس کے دفاع میں مدد دینے کے وعدے پر قائم رہے گا۔

خیال رہے کہ چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور چینی حکام متعدد مواقع پر یہ کہہ چکے ہیں کہ تائیوان کو چین میں ضم کیا جائے گا چاہے اس کے لیے طاقت کا استعمال ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔دونوں شخصیات کی ملاقات کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ نے اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس کے تناظر میں کہا کہ امریکہ توقع رکھتا ہے کہ چین گرین ہاو¿س گیسز کے اخراج میں کمی کے وعدے پورے کرے گا۔امریکی محکمہ خارجہ کے اہل کاروں کے مطابق ملاقات کے دوران امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی معاملات پر زیادہ بات نہیں ہوئی اور گفتگو کا محور سیاسی معاملات ہی رہے۔