Amarinder resigns from Congress, writes to Sonia

چنڈی گڑھ:(اے یو ایس )پنجاب کے سابق وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو خط لکھ کر پارٹی سے استعفی دیدیا ہے۔

کیپٹن امریندر سنگھ نے سونیا گاندھی کو سات صفحات پر مشتمل خط لکھ کر پارٹی سے استعفی دیدیا ہے۔ کیپٹن نے اپنے استعفی نامہ میں کانگریس پارٹی میں اپنے سفر ، اپنی مدت کار میں حاصل کی گئی حصولیابیاں اور سدھو کے ساتھ اپنے تنازع کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی کیپٹن امریندر سنگھ نے اپنی پارٹی کے نام کا بھی اعلان کیا ہے۔ کیپٹن کی پارٹی کا نام پنجاب لوک کانگریس ہوگا۔کیپٹن نے اپنے استعفی نامہ میں لکھا کہ 2017 کے اسمبلی انتخابات میں میں نے پارٹی کی قیادت کی ، جس میں کانگریس نے 117 میں سے 77 سیٹیں حاصل کیں ، جو کہ 1966 سے اب تک کی سب سے زیادہ سیٹیں تھیں۔ اس کے بعد تیرہویں لوک سبھا الیکشن میں ملک بھر میں بی جے پی کی لہر ہونے کے باوجود پارٹی نے آٹھ سیٹیں جیتیں۔

ہم نے پنچایت انتخابات میں دو تہائی سیٹیں جیتیں اور سبھی نگر پالیکا اور نگر نگم کی سیٹوں پر جیت درج کی۔ اس کے ساتھ ہی ہم نے اسمبلی ضمنی انتخابات میں پانچ سیٹوں میں سے چار جیت حاصل کی۔کیپٹن امریندر نے لکھا کہ پچھلے چار سال چھ مہینے میں نے میں انتظامیہ کو اچھے ، صاف اور شفاف طریقہ سے چلایا اور کورونا وبا سے ریاست کے عوام کو ہر طرح سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کیے اور اس وبا کو پھیلنے سے روکا۔

انہوں نے لکھا کہ یہ سب ایسی ناگفتہ بہ حالات میں کیا جبکہ ہمار پاس وسائل کی کمی تھی اور لگاتار سرحد پار پاکستان سے ہتھیاروں اور منشیات کی اسمگلنگ کی کوششیں کی جارہی تھیں۔کیپٹن نے استعفی سے تین دن پہلے ہی کانگریس کے ساتھ پردے کے پیچھے سے بات چیت کی خبروں کو خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ میل جول کا وقت اب ختم ہوگیا ہے اور پارٹی چھوڑنے کا ان کا فیصلہ حتمی ہے۔ کیپٹن امریندر سنگھ نے گزشتہ ہفتہ کہا تھا کہ وہ جلد ہی اپنی نئی پارٹی بنائیں گے اور اگر تین زرعی قوانین کو لے کر کسانوں کے مفاد میں کچھ حل نکلتا ہے تو وہ بی جے پی کے ساتھ 2022 کے الیکشن میں سیٹوں کے سمجھوتہ کو لے کر پرامید ہیں۔